حبیب جالب : انقلابی آواز

حسن پٹھان

حبیب جالب : انقلابی آواز

پاکستان کی ادبی اور سیاسی تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے محض شاعری نہیں کی بلکہ اپنے الفاظ کو ظلم و جبر کے خلاف ہتھیار بنا دیا. ان ہی شخصیات میں ایک نام حبیب جالب کا ہے، جو صرف شاعر ہی نہیں بلکہ عوامی شعور اور مزاحمت کی علامت بھی تھے. 12 مارچ ان کی برسی کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ لفظ اگر سچائی سے لبریز ہوں تو وہ اقتدار کے ایوانوں کو بھی لرزا سکتے ہیں. حبیب جالب 24 مارچ 1928 کو برصغیر کے شہر ہوشیار پور کے قصبہ دسویا میں پیدا ہوئے. یہ وہ دور تھا جب برصغیر سیاسی بیداری اور آزادی کی جدوجہد کے مرحلے سے گزر رہا تھا. جالب نے ابتدائی تعلیم دہلی کے اینگلو عربک اسکول میں حاصل کی. تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان آ کر کراچی میں آباد ہوئے. کراچی میں قیام کے دوران انہوں نے روزنامہ جنگ سے وابستگی اختیار کی اور بعد ازاں فیصل آباد کی ٹیکسٹائل مل میں بھی کام کیا. یہی وہ زمانہ تھا جب انہیں کسان تحریکوں اور مزدور سیاست سے قریب ہونے کا موقع ملا۔ معروف کسان رہنما کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری کمیٹی میں کچھ عرصہ کام کرنے سے ان کے اندر طبقاتی شعور مزید گہرا ہو گیا. اسی شعور نے بعد میں ان کی شاعری کو عوامی مزاحمت کا ترجمان بنا دیا. حبیب جالب کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ محض تخیل یا رومان تک محدود نہیں رہی بلکہ زندگی کی تلخ حقیقتوں اور سماجی ناانصافیوں کو براہِ راست مخاطب کرتی ہے۔ ابتدا میں وہ جگر مراد آبادی سے متاثر ہو کر روایتی غزلیں کہتے تھے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری میں بغاوت اور احتجاج کا رنگ نمایاں ہو گیا۔ جب پاکستان میں 1958 میں ایوب خان نے مارشل لا نافذ کیا تو جالب ان چند آوازوں میں شامل تھے جنہوں نے آمریت کے خلاف کھل کر مزاحمت کی. 1962 کے آئین کے خلاف ان کی نظم “میں نہیں مانتا” نے پورے ملک میں ایک نئی سیاسی بیداری پیدا کی. یہ نظم عوامی جلسوں میں پڑھتے ہی مجمع جوش سے بھر جاتا تھا اور آمریت کے خلاف احتجاج کی علامت بن جاتی تھی. جالب کا یہ انداز حکمرانوں کو کبھی پسند نہ آیا۔. اسی وجہ سے انہیں متعدد بار جیل جانا پڑا. لیکن قید و بند کی صعوبتیں بھی ان کے حوصلے کو توڑ نہ سکیں. جیل میں رہتے ہوئے انہوں نے “سرِ مقتل” کے عنوان سے اشعار لکھے جو اس دور کی سیاسی فضا کا آئینہ دار تھے. جالب کی زندگی کا ایک بڑا حصہ پاکستان کی سیاسی کشمکش کے درمیان گزرا۔ انہوں نے یحییٰ خان کے دور میں بھی آمریت کے خلاف آواز اٹھائی اور بعد میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے اقدامات پر بھی تنقید کی۔ 1974 میں جب حیدرآباد سازش کیس کے تحت کئی سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تو جالب نے طنزیہ انداز میں نظم لکھی: “قصرِ شاہی سے یہ حکم صادر ہوا لاڑکانے چلو، ورنہ تھانے چلو” یہ نظم اس دور کی سیاسی فضا اور طاقت کے استعمال پر ایک زبردست طنز تھی. بعد میں جب ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا تو بھی جالب نے کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر آمریت کے خلاف آواز بلند کی. ان کا مشہور شعر: “ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا” یہ شعر اس بات کا ثبوت ہے کہ جالب سچ کہنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے تھے. حبیب جالب کی زندگی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے کبھی دولت یا اقتدار کی قربت کو ترجیح نہیں دی. وہ چاہتے تو اپنے اثر و رسوخ سے بہت فائدے حاصل کر سکتے تھے، مگر انہوں نے سادگی اور فقیری کو ہی اپنی زندگی کا اصول بنایا. ان کے بچے بھی عام تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے رہے اور ان کی زندگی میں کوئی شاہانہ آسائش شامل نہ تھی. یہی سادگی دراصل ان کی شاعری کی اصل طاقت تھی، کیونکہ وہ عوام کی زندگی کو قریب سے جانتے تھے. ان کے اشعار عام آدمی کے دکھ درد کی ترجمانی کرتے تھے، اسی لیے عوام انہیں اپنا شاعر سمجھتے تھے. جالب نے صرف سیاسی شاعری ہی نہیں کی بلکہ فلمی گیت بھی لکھے۔ پاکستانی فلم زرقا کا مشہور گیت “رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے” انہی کا لکھا ہوا ہے جس نے انہیں فلمی دنیا میں بھی شہرت دی. ان کے شعری مجموعوں میں صراط مستقیم، ذکر بہتے خوں کا، گنبدِ بے در، حرفِ حق، حرفِ سرِ دار، گوشے میں قفس کے اور اس شہرِ خرابی میں شامل ہیں. بعد ازاں ان کی کلیات بھی شائع ہوئی جس میں ان کی پوری شاعری کو یکجا کیا گیا. حبیب جالب کی شاعری کا سب سے بڑا وصف اس کی سادگی اور براہِ راست انداز ہے. وہ پیچیدہ استعاروں اور علامتوں کے بجائے سیدھی اور عام فہم زبان استعمال کرتے تھے. یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار عوامی جلسوں میں نعرے بن جاتے تھے. ان کی شاعری میں احتجاج، امید اور انسان دوستی کا پیغام نمایاں ہے. وہ ظلم کے خلاف مزاحمت کو زندگی کا لازمی اصول سمجھتے تھے. یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار آج بھی سیاسی اور سماجی تحریکوں میں پڑھے جاتے ہیں. 12 مارچ 1993 کو حبیب جالب اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کی آواز آج بھی زندہ ہے. ان کی برسی ہر سال اس یاد کے ساتھ منائی جاتی ہے کہ سچائی کا راستہ کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو، مگر تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو ظلم کے سامنے سر نہیں جھکاتے. ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں نگار فلم ایوارڈ سے نوازا گیا اور بعد ازاں 2006 سے ان کے نام سے حبیب جالب امن ایوارڈ بھی دیا جانے لگا. حبیب جالب کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ شاعری صرف الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ سماجی شعور کی طاقت بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے قلم کو ہمیشہ مظلوموں کی آواز بنایا اور آمریت کے ہر دور میں سچ بولنے کی روایت کو زندہ رکھا. آج جب ہم ان کی برسی پر انہیں یاد کرتے ہیں تو دراصل ہم اس جرات، دیانت اور عوامی شعور کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جس کی مثال اردو ادب میں کم ہی ملتی ہے. جالب کی شاعری آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتی رہے گی کہ سچائی کی آواز دبائی جا سکتی ہے، مگر ختم نہیں کی جا سکتی.