خاموش مگر بااثر، مجتبیٰ علی خامنہ ای عالمی توجہ کا مرکز بن گئے

مجتبیٰ خامنہ ای، امام خمینی اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ایران کے تیسرے سپریم لیڈر ہوں گے

خاموش مگر بااثر، مجتبیٰ علی خامنہ ای عالمی توجہ کا مرکز بن گئے

تہران (م ڈ) ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ہونے کے بعد سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای، امام خمینی اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ایران کے تیسرے سپریم لیڈر ہوں گے۔ ان کے انتخاب کے بعد اب ایران کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں پر ان کا گہرا اثر ہوگا۔ 1969 میں مشہد میں پیدا ہونے والے مجتبیٰ، شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے ایران کی طاقتور فوجی فورس پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ انہوں نے ایران عراق جنگ میں حصہ لیا تھا، جہاں ان کی دوستی ایسے افراد سے ہوئی جو آج ایران کے سکیورٹی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ انہوں نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں رکھا، تاہم انہیں سپریم لیڈر کے دفتر کا سب سے طاقتور شخص سمجھا جاتا تھا، جو پسِ پردہ اہم فیصلے کیا کرتے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی طرح سخت گیر نظریے کے حامی ہیں۔ ان کی قیادت میں ایران کی اسرائیل اور امریکہ مخالف پالیسیوں میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی روابط کے باعث ایران اپنے میزائل پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔