حیدرآباد (پ ر) رسول بخش پلیجو فکری اسکول کے عنوان سے منعقد عوامی تحریک کے تین روزہ تعلیمی و تربیتی ورکشاپ کا آج تیسرے دن اختتام ہو گیا۔ ورکشاپ میں نور احمد کاتیار، عبدالقادر رانٹو، عمرہ سموں، دریا خان زیور، ماہ نور ملاح، ایڈووکیٹ راحیل بھٹو، کاشف ملاح، ڈاکٹر دلدار لغاری، نور نبی پلیجو، مجید ساگر پرہیاڑ، ایڈووکیٹ خالد تنیو، محمد علی تالپر، سبحانی ڈاہری، محمد علی خاصخیلی، اعتزاز گائنچو، سرمد سائیں داد خاصخیلی اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری نے کہا کہ چین کی موجودہ ترقی کا راز ماؤزے تنگ کی قیادت میں آنے والا چینی انقلاب ہے اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کے فولادی نظم و ضبط، اجتماعی قیادت اور مارکسزم کو چین کے حالات کے مطابق اپنانے کی وجہ سے چین ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی انقلاب سندھی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے اور اسی عظیم انقلاب کی بدولت آج چین نے اپنے لوگوں کو غربت سے نکال لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح چینی قوم کو غلام بنانے کے لیے چین پر افیون کی جنگ مسلط کی گئی تھی، اسی طرح سندھ پر بھی منشیات کی جنگ مسلط کر دی گئی ہے۔
ایڈووکیٹ اسماعیل خاصخیلی نے کہا کہ پاکستان میں اچانک پیٹرول مہنگا ہونے کی وجہ جنگ نہیں بلکہ حکمرانوں اور سرمایہ داروں کی لالچ اور حرص ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سامراج مخالف جنگ لڑ رہا ہے، اس لیے ہمیں ایران کی کھل کر حمایت کرنی چاہیے۔
گلڻ بھنڈ نے کہا کہ استاد بخاری نے سندھی قوم کے تمام رویوں پر شاعری کی۔ انہیں سندھ دھرتی سے بے حد محبت تھی۔ وہ سندھ کے ماروئڑوں، سندھ کی سرزمین کے درختوں، پودوں، پرندوں اور تمام جانداروں سے عشق کرتے تھے۔ استاد بخاری کو سندھ کی خوبصورتی اور سرسبزی سے گہرا لگاؤ تھا اور وہ فطرت کے عاشق تھے۔ انہوں نے اپنی ذاتی ترقی کے بجائے قوم کی اجتماعی ترقی کے لیے جدوجہد کرنے، سوچنے اور بولنے کا درس دیا۔
0 تبصرے