ہر بحران اپنے اندر مواقع بھی لے کر آتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو پاکستان کی بندرگاہیں، خصوصاً گوادر، عالمی کنٹینر ٹریفک کے لیے متبادل ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر ابھر سکتی ہیں، بشرطیکہ بروقت اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔ اس وقت عالمی بحری تجارت شدید تعطل کا شکار ہے اور روزانہ تقریباً 110 سے 130 تجارتی بحری جہاز، جن میں آئل ٹینکرز، بلک کیریئرز اور کنٹینر بحری جہاز شامل ہیں، اور تقریباً 21 ملین بیرل تیل کی نقل و حمل متاثر ہو رہی ہے۔ بڑی شپنگ کمپنیاں جیسے Maersk، Hapag-Lloyd، MSC اور CMA CGM نے اپنے راستے منسوخ کر دیے ہیں جبکہ 300 سے زائد جہاز، جن کی گنجائش تقریباً 450,000 TEUs ہے، خلیجی بندرگاہوں کے قریب رکے ہوئے ہیں جس سے عالمی سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بڑھتی ہوئی انشورنس لاگت، نیوی گیشنل رکاوٹیں اور کیپ آف گڈ ہوپ کے ذریعے متبادل راستوں نے یورپ اور ایشیا میں بڑے پیمانے پر تاخیر اور بیک لاگ پیدا کر دیا ہے۔
2026 کا ہرمز بحران پاکستان کے لیے سمندری شعبے میں ایک تاریخی موقع فراہم کرتا ہے۔ گوادر اور کراچی، جو اس تنازعے کے براہِ راست دائرے سے باہر ہیں، کھلے بحرِ عرب میں محفوظ اسٹوریج اور ٹرانس شپمنٹ کا متبادل بن سکتے ہیں۔ اگر بندرگاہی فیسوں میں کمی، کارگو ہینڈلنگ میں سہولت اور کسٹمز کے عمل کو آسان بنایا جائے تو وہ جہازران کمپنیاں جو مالی نقصانات اور تاخیر سے بچنا چاہتی ہیں، پاکستان کی بندرگاہوں کی طرف رجوع کر سکتی ہیں۔ گوادر اپنی گہرے پانی کی برتھس، جدید انفراسٹرکچر اور فری زون کی سہولیات کی بدولت بڑے کنٹینر جہازوں کی خدمت اور عارضی اسٹوریج کے لیے بہترین مقام ہے، جہاں سے کارگو کو افریقہ، یورپ اور مشرقی ایشیا کی طرف دوبارہ برآمد کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پورٹ قاسم کا مشترکہ پورٹ کمپلیکس پہلے ہی اپنی صلاحیت کے تقریباً 50 فیصد استعمال پر ہے اور بڑے حجم کے کارگو کو سنبھالنے کی استعداد رکھتا ہے۔ ریلوے اور سڑکوں کے مضبوط رابطوں اور صنعتی مراکز سے قربت کی وجہ سے یہ بندرگاہیں خطے میں متبادل تجارتی گزرگاہ بن سکتی ہیں۔ سی پیک کے زمینی راستوں کو بروئے کار لا کر پاکستان سمندری راستوں پر انحصار کم کرتے ہوئے علاقائی تجارت کو ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد متبادل فراہم کر سکتا ہے۔
ہرمز بحران کے تناظر میں پاکستان تین اسٹریٹجک ستونوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے: پہلا، پھنسے ہوئے کارگو اور جہازوں کو محفوظ لنگر انداز کرنے اور بانڈڈ ویئر ہاؤسنگ کی سہولت فراہم کر کے فوری آمدنی اور عالمی دباؤ میں کمی؛ دوسرا، گوادر اور کراچی کو ٹرانزٹ ہب کے طور پر ترقی دے کر زمینی اور سمندری تجارت کو مربوط کرنا؛ اور تیسرا، علاقائی عدم استحکام کے درمیان خود کو ایک قابلِ اعتماد اور مستحکم تجارتی شراکت دار کے طور پر منوانا۔
حکومت پاکستان اور متعلقہ بحری ادارے اس سمت میں مثبت اقدامات کر رہے ہیں، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر مزید برتھس، کرینز، طویل اوقاتِ کار اور کسٹمز کے عمل کو مزید سہل بنایا جائے۔ بین الاقوامی سطح پر سکیورٹی کے حوالے سے اعتماد سازی اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری بھی ناگزیر ہے تاکہ عالمی شپنگ کمپنیوں کو یقین دہانی کرائی جا سکے۔ اگر پاکستان بروقت اور مؤثر حکمت عملی اپنائے تو یہ بحران ملک کو خطے کے اہم بحری مرکز کے طور پر مستحکم کر سکتا ہے اور گوادر و کراچی کو محض متبادل نہیں بلکہ عالمی تجارت کے مستقل ستون میں تبدیل کر سکتا ہے۔
مصنف، ماہرِ جیو پولیٹکس، میری ٹائم سکیورٹی و اسٹریٹجک امور، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز سے وابستہ ہیں۔ اظہارِ خیال ذاتی ہے۔
0 تبصرے