کراچی (ویب ڈیسک) امریکی قونصل خانہ کراچی پر حملے کا مقدمہ سندھ حکومت کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق اتوار کے روز قونصل خانے کے باہر احتجاج کے دوران فائرنگ اور ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد جاں بحق جبکہ 31 زخمی ہو گئے تھے۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ واقعہ یکم مارچ 2026 کی صبح تقریباً 10 بجے پیش آیا۔ مائی کلاچی روڈ پر، ڈاكس تھانے کی حدود میں قونصل خانے کے گیٹ نمبر چار کے قریب 150 سے 200 مشتعل افراد جمع ہوئے، جو مبینہ طور پر ایرانی سپریم لیڈر کی موت (شہادت) کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین کے پاس ڈنڈے، لاٹھیاں اور اسلحہ موجود تھا اور وہ نعرے بازی کر رہے تھے۔ متن کے مطابق احتجاج میں شامل بعض شرپسند عناصر نے اچانک فائرنگ شروع کر دی اور قونصل خانے کی عمارت کو نقصان پہنچانے اور دیوار پھلانگنے کی کوشش کی، جس کے دوران فائرنگ اور بھگدڑ سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔
اطلاع ملنے پر ڈاكس تھانے کے ایس ایچ او نند لال نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور صورتحال کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق اسپتال سے موصول اطلاعات کے مطابق واقعے میں 9 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے، جبکہ 31 زخمیوں کا علاج جاری ہے۔
جاں بحق افراد میں ساجد علی، خاور عباس، محمد عدیل عباس، محمد علی، کاظم حسین زیدی، عدیل عباس، عاصم عباس، مبارک شاہ، محمد عباس، محمد شاہ اور عامر شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق مکمل تصدیق اور ڈیٹا کی چھان بین کا عمل جاری ہے۔
مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 147، 148، 149، 324، 302، 427، 395، 353، 186 اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مشتعل افراد فرار ہوتے وقت ایک سرکاری سب مشین گن اور میگزین بھی ساتھ لے گئے۔ حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے تاکہ ملوث ملزمان کی نشاندہی کر کے انہیں گرفتار کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ امریکی قونصل خانے اور اطراف کے علاقوں میں ہنگاموں اور فائرنگ کے باعث مجموعی طور پر 10 افراد جاں بحق جبکہ تقریباً 100 زخمی ہوئے تھے۔
واقعے کے بعد علاقے کے ایس ایس پی امجد شیخ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، جبکہ ڈی ایس پی اور ڈاكس تھانے کے ایس ایچ او کو بھی معطل کر دیا گیا تھا۔
0 تبصرے