نیویارک: (رپورٹ) معروف تجزیہ نگار اعجاز حیدر نے اپنے ایک آن لائن ولاگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل، ایران کی عسکری صلاحیت اور جغرافیائی اہمیت کا درست اندازہ لگانے میں سنگین غلطیاں کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق امریکی منصوبہ ساز اس جنگ کو ایک ’’عقلی انتخاب‘‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ اسرائیل اور پینٹاگون کے بعض عہدیدار اسے مذہبی اور وجودی بقا کی جنگ تصور کرتے ہیں۔ اعجاز حیدر کا کہنا تھا کہ جب کوئی ریاست جنگ کو مذہبی فریضہ سمجھ لے تو وہ بڑے سے بڑا نقصان برداشت کرنے کے لیے بھی تیار ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو مفلوج کرنے کے لیے سائبر کمانڈ استعمال کر رہا ہے، تاہم اسٹکس نیٹ حملے کے بعد ایران نے اپنے سائبر دفاع کو عالمی معیار پر مضبوط کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سستے ڈرونز اور پرانے میزائل استعمال کر کے اسرائیل کے مہنگے دفاعی نظام، جیسے آئرن ڈوم اور تھاڈ، کو تھکانے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ اگر دفاعی انٹرسیپٹرز کا ذخیرہ ختم ہو جائے تو اسرائیلی فضائیں ایران کے جدید میزائلوں کے لیے زیادہ غیر محفوظ ہو سکتی ہیں۔
0 تبصرے