سندھ ہائی کورٹ کا گلشن روفی کے متاثرین کو لیز پلاٹس فراہم کرنے کا حکم

عدالت نے بلڈرز اور نیب سے متاثرین کو لیز فراہم کرکے مکمل فہرست اور ملزمان کو طلب کرلیا

سندھ ہائی کورٹ کا گلشن روفی کے متاثرین کو لیز پلاٹس فراہم کرنے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے گلشن روفی اسکیم 33 میں 650 متاثرین کو پلاٹس کی عدم فراہمی کے کیس میںملزمان کو آخری مہلت دیتے ہوئے حکم دیاہے کہ جو متاثرین رہ گئے ہیں انہیں بھی لیز پلاٹس فراہم کیے جائیں ۔عدالت نے بلڈرز اور نیب سے متاثرین کو لیز فراہم کرکے مکمل فہرست اور عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کرکے ملزمان کو 18 مئی کو طلب کرلیا۔سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں گلشن روفی اسکیم 33 کے 650 متاثرین کو پلاٹس کی عدم فراہمی کیس کی سماعت ہوئی ۔دوران سماعت بزرگ متاثرین ایک بار پھر انصاف کے لیے عدالت پہنچ گئے ۔متاثرین نے عدالت کو بتایا کہ پلاٹ بک کروانے کے بعد ہم برباد ہو گئے، عدالتوں تو کبھی نیب کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔عدالت نے 2020 میں متاثرین کو لیز پلاٹس فراہم کرنے کا حکم دیا ۔احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا ہے،دھکے کھا رہے ہیں۔ جسٹس سلیم جیسر نے استفسار کیا کہ ملزمان کہاں ہیں یہ محمد قاسم کون ہے؟ملزم کے وکیل نے بتایا کہ دو ملزمان آئے ہیں محمد قاسم بیمار ہیں ڈائیلاسز کی وجہ سے نہیں آئے۔جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیئے کہ ڈائیلاسز تو جیل میں بھی ہوسکتا ہے۔آخری مہلت دے رہے ہیں جو متاثرین بچ گئے ہیں انہیں بھی لیز پلاٹس فراہم کیے جائیں۔عدالت نے بلڈرز اور نیب سے متاثرین کو لیز فراہم کرکے مکمل فہرست اور عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کرکے ملزمان کو 18 مئی کو طلب کرلیا۔عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ کے ساتھ طلب کرلیا۔نیب پراسیکیوٹر سید منظور علی نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طورپر 635 متاثرین شامل ہیں اور یہ کیس نیب کے دائر اختیار میں آتا ہے۔ملزمان بلڈرز میں رحمت الہی، سابق سنیٹر قاسم لاسی اور منظور روفی شامل ہیں۔یقین دہانی کے باوجود ملزمان متاثرین کو پلاٹس فراہم نہیں کررہے۔ملزمان نیب سے تحقیقات میں بھی تعاون نہیں کررہے۔درخواست گزاروں کے وکیل ملک الطاف جاوید ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ عدالتی احکامات کے باجود 8 سو سے زائد متاثرین کو پلاٹ نہیں دیے جارہے۔ او ڈی سی چارجز میں بلڈر نے کروڑوں روپے کا فراڈ کیا ہے ۔الاٹیز نے گلشن روفی اسکیم 33 سیکٹر 21 بی، 19 بی، 6 سی اور 6 بی میں پلاٹس بک کرائے تھے۔سندھ ہائیکورٹ نے 2020 میں بلڈر کو الاٹیز کو پلاٹ دینے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے نیب کو پابند کیا تھا الاٹیز کو پلاٹ فراہم کرنے میں معاونت کریں۔عدالتی احکامات کے باجود متاثرین کو اب تک پلاٹ نہیں گئے او ڈی سی چارجز اور نہ ڈولپمنٹ کا ورک کرایا گیا۔بلڈر کی جانب سے سیکٹر 21 بی کے 100 سے زیادہ متاثرین کو فلاحی پلاٹوں اسکول کالجز پلے گراؤنڈ پر لیز دی گئی ہے جو سب سے بڑا فراڈ ہے۔سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدر آمد کا حکم دیا جائے۔