تهران (ویب ڈیسک) ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ دوسرے مرحلے کی مذاکرات کے لیے ایرانی وفد پاکستان نہیں جائے گا اور ایران کا مذاکرات میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، ہم نے پاکستانی حکام کو آگاہ کر دیا ہے کہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد نہیں آئیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ جارحیت کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں، امریکا نے جارحانہ کارروائیاں کر کے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق امریکی تجاویز غیر سنجیدہ اور ان کے مطالبات غیر حقیقی ہیں، ایران نے اپنے مطالبات واضح طور پر بیان کر دیے ہیں اور ان میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوگی۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ جب ایران کے قومی مفادات کے تحفظ کی بات آتی ہے تو ہم ڈیڈ لائنز یا الٹی میٹم پر یقین نہیں رکھتے، اگر امریکا اور اسرائیل نئی جارحیت شروع کرنا چاہتے ہیں تو ہماری مسلح افواج اس کا جواب دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے پہلے آبنائے ہرمز محفوظ تھی، پاکستانی حکام کی وضاحت کے باوجود امریکا نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں تھا، امریکا نے سمندری ناکہ بندی کر کے ایرانی بحری جہاز پر حملہ کیا، یہ اقدام جنگ بندی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا نے دو بار مذاکرات کی خلاف ورزی کی، ایران پر حملہ کیا، ایرانی شہریوں کو قتل کیا اور انفراسٹرکچر کو تباہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگی صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز میں سمندری نقل و حرکت کو یکطرفہ طور پر معمول پر لانا ممکن نہیں ہے۔
0 تبصرے