واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکا کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کو اپنے فیصلے عقل سے کرنے ہوں گے، اگر ایران نے غلط فیصلہ کیا اور معاہدہ نہ کیا تو امریکی فوج دوبارہ جنگی کارروائیوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران امریکی وزیر نے کہا کہ ایرانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری اور ان کی صلاحیتوں کا کوئی مقابلہ نہیں، امریکا آج بھی پہلے کی طرح مضبوط ہے، ایران کے پاس آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے اب بحری طاقت نہیں رہی، اگر ایران نے اب معاہدہ نہ کیا تو امریکا حملے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے پیغام ہے کہ ہم آپ پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ایران کو بتایا گیا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ کون سے فوجی اثاثے منتقل کر رہے ہیں، ایران بمباری میں تباہ ہونے والے میزائل لانچرز کو دوبارہ استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ امریکا پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ دوبارہ تیاری کر رہا ہے، ایران کو اپنے فیصلے عقل سے کرنے ہوں گے، کسی بھی صورت ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔
ان کے مطابق ایران دعویٰ کرتا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر رہا ہے لیکن اس کی اپنی کوئی بحریہ نہیں، تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں کنٹرول نہیں بلکہ بحری قزاقی ہیں، آبنائے ہرمز میں ٹریفک پر امریکی بحریہ کا کنٹرول ہے اور جب تک ضرورت ہوگی یہ ناکہ بندی جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے ایران ایسا معاہدہ کرے گا جو اس کی دسترس میں ہو، ایران کی جنگ بندی میں رہنے کی خواہش زیادہ محسوس ہوتی ہے، ایران کے نئے سپریم لیڈر کے زخمی ہونے کا شبہ ہے تاہم وہ زندہ ہیں۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے میں مدد کرنے والے دیگر ممالک کا خیرمقدم کریں گے، فیلڈ مارشل کے ساتھ ٹرمپ کے اچھے تعلقات ہیں۔
0 تبصرے