قاضیاں گوجر خان میں سر عام قتل کے ملزمان ابھی تک آزاد

بااثر ملزمان کے رشتہدار راولپنڈی پولیس میں تعینات ہیں۔

قاضیاں گوجر خان میں سر عام قتل کے ملزمان ابھی تک  آزاد

گوجرخان: قتل کے واقعہ میں تاحال مکمل پیش رفت نہ ہونے پر مقتول کی بیوہ نے انصاف کی فراہمی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔مقتول قاضی عمیر سلطان کی بیوہ نورین اختر نے پوٹھوہار پریس کلب میں پریس کانفرنس میں کہا کہ 26 مارچ 2026 کو دن دیہاڑے قاضیاں بازار میں واقع ان کے کریانہ سٹور پر مسلح افراد نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ان کے شوہر قتل جبکہ قاضی عقیق اور ملازم نزاکت شدید زخمی ہو گئے۔جسکی ایف آئی آر حیدر علی اور کلیم احمد جبکہ منصوبہ بندی میں قاضی عبدالحسیب اور محمد رحیم کے خلاف درج ہوئی،نورین اختر کا کہنا تھا کہ نامزد ملزمان بااثر ہیں اور ان کے رشتہ دار سرکاری اداروں خصوصاً پولیس میں خدمات انجام دے چکے ہیں، جس کے باعث انہیں انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ 11 اپریل 2026 کو ان کے دیور حبیب سلطان پر بھی مبینہ حملے کی کوشش کی گئی۔واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے اور تھانہ گوجرخان میں درخواست بھی دی جا چکی ہے، تاہم تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ بیوہ کے مطابق ملزمان کی جانب سے مسلسل سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، مقتول دو کمسن بچوں کا باپ اور گھر کا واحد کفیل تھا،انہوں نے اعلی حکام سے انصاف کی فراہمی اور تحفظ دینے کا مطالبہ کیا،پولیس نے موقف اختیار کیا ہے کہ ہے کہ اس مقدمہ میں دو ملزمان کو گرفتار ہیں، جبکہ دو ملزمان قبل از گرفتاری عبوری ضمانت پر ہیں۔پولیس مدعی پارٹی کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے،