چار مرتبہ کے عالمی چیمپیئن اٹلی کی عالمی کپ کی جدوجہد ایک بار پھر ناکامی پر ختم ہوئی کیونکہ انہوں نے بوسنیا اور ہرزیگووینا کے خلاف پلے آف فائنل میں 1-1 کے ڈرا کے بعد پنالٹی شوٹ میں 4-1 سے شکست کھائی۔
یہ اٹلی کی پچھلے دو عالمی کپ کے لیے کوالیفیکیشن میں ناکامی کا تسلسل ہے، کیونکہ انہوں نے 2018 اور 2022 کے عالمی کپ کے لیے پلے آف مرحلے میں شکست کھائی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اٹلی کی آخری عالمی کپ میں کامیابی 2014 میں ہوئی تھی۔
میچ کا آغاز اٹلی کے لیے بہترین رہا، جب موئیز کیان نے 15 ویں منٹ میں ٹیم کو برتری دلائی۔ تاہم، 41 ویں منٹ میں الیسنڈرو باستونی کو ریڈ کارڈ ملنے کے بعد میزبان ٹیم کی امیدیں مضبوط ہو گئیں۔ بوسنیا نے میچ کے 79 ویں منٹ میں ہارس تباکوویچ کے ذریعے اسکور برابر کر دیا۔
پنالٹی شوٹ میں اٹلی کے پائیو ایسپوسیتو اور برائن کرسٹانٹے نے پنالٹیز ضائع کیں، جبکہ میزبان ٹیم نے تمام مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ویلز کے خلاف سیمی فائنل کی طرح فتح حاصل کی۔
اٹلی عالمی فٹ بال کی تاریخ میں ایک ممتاز اور کامیاب ٹیم رہی ہے۔ چار مرتبہ کے عالمی چیمپیئن (1934، 1938، 1982، اور 2006) کے طور پر، اٹلی نے اپنی دفاعی مہارت، تکنیکی کھیل اور ذہین حکمت عملی کے لیے دنیا بھر میں پہچان بنائی۔ ان کے پاس ایسے لیجنڈ کھلاڑی ہیں جنہوں نے کھیل کی تاریخ بدل دی، اور ان کی ٹیم ہمیشہ عالمی سطح پر خطرہ بن کر ابھرتی رہی۔
تاہم، حالیہ برسوں میں اٹلی کے لیے عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کرنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔ 2018 اور 2022 کے عالمی کپ کے لیے وہ پلے آف مرحلے میں ناکام ہوئے، اور 2026 کے لیے بھی انہیں بوسنیا اور ہرزیگووینا کے ہاتھوں پنالٹی شوٹ میں 4-1 کی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تسلسل ان کے لیے ایک سنگین بحران کی علامت ہے، جو کبھی عالمی فٹ بال میں غالب رہنے والی ٹیم کے لیے حیران کن ہے۔۔۔
0 تبصرے