ڈوکری: خواتین اساتذہ کی ميل پرنسپل اور ميل کلرک کے خلاف محکمے تعلیمِ کے افسران کو شکایت

پرنسپل سکندر علی عباسی اور کلرک عامر علی جسکانی کی شکايت کی گئی

ڈوکری: خواتین اساتذہ کی ميل پرنسپل اور ميل کلرک کے خلاف محکمے تعلیمِ کے افسران کو شکایت

ڈوکری (اطہر میمن) گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول ڈوکری کی خاتون اساتذہ نے اسکول کے ميل پرنسپل اور ميل کلرک کے خلاف تعلیمِ محکمے کے افسران کے پاس باقاعدہ تحریری شکایت درج کرائی ہے۔ درخواست میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ پرنسپل سکندر علی عباسی کی تعیناتی کے بعد اسکول کا ماحول متاثر ہوا ہے اور خواتین اساتذہ سمیت طالبات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اساتذہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ اسکول میں روزانہ مرد آتے ہیں جو پرنسپل کے ساتھ دفتر میں بیٹھ کر لمبی باتیں کرتے ہیں، جبکہ ایک کلرک عامر علی جسکانی بھی پورا دن پرنسپل کے دفتر میں موجود رہتا ہے اور خواتین اساتذہ سے سوال جواب کرتا ہے، جو ان کے لیے ذہنی اذیت کا سبب بن رہا ہے۔ اساتذہ نے مزید کہا کہ یہ ایک لڑکیوں کا اسکول ہے جہاں ایسے رویوں سے طالبات کی رازداری اور تحفظ کے حوالے سے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ اساتذہ کا مزید الزام ہے کہ پرنسپل اساتذہ کو ون آن ون ملاقات کے لیے بلاتے ہیں، جہاں ميل کلرک عامر علی جسکانی بھی موجود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے خواتین اساتذہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ خاتون اساتذہ کا کہنا ہے کہ لڑکیوں اور خواتین کے کئی حساس مسائل ایسے ہوتے ہیں جو مرد ایڈمنسٹریٹر کے ساتھ شیئر کرنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے اسکول میں خاتون پرنسپل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومتِ سندھ اور اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ پرنسپل کو ہٹایا جائے اور اس کی جگہ خاتون پرنسپل مقرر کی جائے تاکہ اسکول کا ماحول بہتر بنایا جا سکے۔