اسلام آباد / نیویارک (م ڈ) ایک امریکی اخبار نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران امن کے قیام کے لیے بھرپور ٹیلی فونک سفارتکاری کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی قیادت خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عالمی رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہے، جن میں تہران، ریاض، ابوظبی، قاہرہ، استنبول اور برسلز کے اہم رہنما شامل ہیں۔
اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی رہنماؤں کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جس کے باعث پاکستان ایک مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے خطے میں امن کی بحالی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب جرمن وزیر خارجہ جوہان ویڈے فول نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطے ہو چکے ہیں اور اب براہِ راست ملاقات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ دونوں ممالک کے نمائندوں کی یہ اہم ملاقات پاکستان کی سرزمین پر بھی ہو سکتی ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق اگر پاکستان کی یہ کوششیں کامیاب ہو گئیں تو یہ عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی کامیابی ثابت ہو گی۔
0 تبصرے