اسرائیل میں بڑی تباہی، امریکی میڈیا میں بلیک آؤٹ

اسرائیل میں بڑی تباہی، امریکی میڈیا میں بلیک آؤٹ

اسرائیل میں وسیع پیمانے پر تباہی ہو چکی ہے، مگر عالمی میڈیا، خاص طور پر امریکی میڈیا، حقیقت کو مکمل طور پر چھپا رہا ہے۔ امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں (مثلاً کیلیفورنیا میں 6 ڈالر تک) اور اس کا اثر عام امریکی شہری پر براہِ راست پڑ رہا ہے۔ ٹرکنگ اور ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ یہ جنگ اب لوگوں کی “جیب” تک پہنچ چکی ہے۔ یہ روایتی جنگ نہیں بلکہ ایک “نیا عالمی نظام” قائم ہونے کا عمل ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران ہر ایک اپنا اپنا بیانیہ پیش کر رہے ہیں۔ اصل جنگ “بیانیے” کی ہے۔ اصل مقابلہ زمین یا فوجی قبضے کے لیے نہیں بلکہ تیل اور توانائی پر کنٹرول کے لیے ہے، خاص طور پر بحرِ ہرمز سے گزرتے ہوئے دنیا کے تقریباً 25 فیصد تیل کے لیے۔ اگر یہ راستہ بند ہو گیا تو عالمی معیشت متاثر ہوگی، مہنگائی بڑھے گی اور ہر ملک کی معیشت ڈوب سکتی ہے۔ ایک چھوٹی سی غلطی بھی بڑی جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ تل ابیب پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کے بڑے نقصان کے بعد، جنگ کو قابو سے باہر کر سکتا ہے۔ ایران اب خفیہ جنگ نہیں بلکہ کھلی جنگ کر رہا ہے اور براہِ راست جواب دے رہا ہے، جس سے جنگ کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے۔ امریکہ بظاہر کہتا ہے کہ “ہم مکمل جنگ نہیں چاہتے”، مگر حقیقت میں پہلے ہی جنگ میں شامل ہے۔ تاریخی حوالے سے امریکہ آہستہ آہستہ جنگ میں داخل ہوتا ہے، پھر پھنس جاتا ہے۔ دوسری طرف جنگ اسٹاک مارکیٹس، بینکوں اور خوراک تک اثر انداز ہوگی، مہنگائی لازمی بڑھے گی اور سپلائی چین ٹوٹ سکتی ہے۔ روس کو مہنگے تیل کی فروخت سے فائدہ ہو رہا ہے، جبکہ چین، جس کی توانائی پر انحصار ہے، خطرات میں ہے۔ امریکہ کا مقصد برکس اتحاد کو کمزور کرنا، ڈالر کو مضبوط رکھنا اور عالمی برتری قائم رکھنا ہے۔ عمومی طور پر اسرائیل تیز اور مختصر جنگ کرتا ہے، مگر اس بار جنگ طویل ہو گئی اور قابو سے باہر ہو رہی ہے۔ ایران توقع سے زیادہ سخت جواب دے رہا ہے اور مختلف مقامات سے حملوں کا جواب دے رہا ہے، جس کے لیے امریکہ اور اسرائیل مکمل طور پر تیار نہیں تھے۔ عرب ممالک کو سیکیورٹی کے لیے امریکہ پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے، مگر اب انہیں بھی شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔ معاشی اور سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔