عید کے فوراً بعد ایک ارب ڈالر یورو بانڈ کی ادائیگی، پاکستانی معیشت کا بڑا امتحان

عید کے فوراً بعد ایک ارب ڈالر یورو بانڈ کی ادائیگی، پاکستانی معیشت کا بڑا امتحان

کراچی (رپورٹر) پاکستان کی بیرونی معیشت ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہے۔ عید الفطر کی تعطیلات کے فوراً بعد ایک ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی کا امکان ہے، جس کے باعث غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر، بڑھتے ہوئے قرضے اور بیرونی مالی امداد پر انحصار کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2026ء کے آغاز تک پاکستان کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر 8 سے 9 ارب ڈالر کے درمیان ہیں۔ اگرچہ یہ صورتحال 2023ء کے بحران کے مقابلے میں بہتر ہے، لیکن یہ ذخائر عالمی معیار سے کم ہیں اور صرف ڈیڑھ سے دو ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق ملک کا مجموعی بیرونی قرضہ اور واجبات 125 ارب ڈالر کی حد عبور کر چکے ہیں۔ موجودہ مالی سال میں پاکستان کو 25 ارب ڈالر سے زیادہ بیرونی مالی ضروریات کا سامنا کرنا ہے، جس میں ایک ارب ڈالر کی ادائیگی مارکیٹ کے اعتماد کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی برآمدات 25 سے 30 ارب ڈالر تک محدود ہیں، جبکہ درآمدات بہت زیادہ ہیں، جس سے کیپیٹل اکاؤنٹ خسارہ برقرار ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات، جو سالانہ تقریباً 30 ارب ڈالر تک پہنچتی ہیں، معیشت کے لیے بڑا سہارا ہیں، لیکن عالمی حالات کی وجہ سے یہ بھی خطرے میں ہیں۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ چھوٹے مدتی اقدامات کے بجائے برآمدات میں اضافہ اور مالی نظم و ضبط جیسے طویل مدتی اصلاحات اہم اور غیر متزلزل ہیں۔