تہران/تل ابیب/واشنگٹن/بیروت (ویب ڈیسک) پاسدارانِ انقلاب کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران کی جانب سے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر شدید حملے کیے گئے ہیں، جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ تازہ حملوں میں اسرائیل کے اندر 100 اہداف کو نشانہ بنانے اور 200 افراد کے ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات ایران کے انٹیلیجنس امور کے وزیر اسماعیل خطیب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ادھر تہران میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری شہید علی لاریجانی، بسیج کے کمانڈر میجر جنرل غلام رضا سلیمانی اور نیوی کے درجنوں اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔
ایرانی صدر کی جانب سے اسماعیل خطیب کی شہادت کی تصدیق
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیلی حملے میں ایران کے انٹیلیجنس وزیر اسماعیل خطیب کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے گزشتہ رات کی کارروائی میں ایرانی وزیر کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔
تل ابیب میں تباہی، ایران کا 600 امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
ایران کی جانب سے اسرائیلی اور امریکی اہداف پر نئے میزائل حملوں میں 600 امریکی فوجیوں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے ان حملوں میں ایسے ہتھیار استعمال کیے ہیں جو اس سے قبل کبھی استعمال نہیں کیے گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق تازہ حملوں میں تل ابیب کے 8 علاقوں میں تباہی پھیل گئی، کئی علاقوں کی بجلی منقطع ہو گئی جبکہ 4000 رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
حملوں کے بعد ٹرین سروس غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی جبکہ بن گوریون ایئرپورٹ پر ری فیولنگ طیاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ جنگ کے بعد خطے میں امریکہ کے بغیر ایک نیا توازن قائم ہوگا اور جنگ کے آغاز سے اب تک 600 امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
0 تبصرے