الہداد سمیجو سے پلاٹ کے معاملے پر تنازعہ چل رہا تھا، واقعے کے روز وہ اسماعیل کو چائے پینے کے لیے لے گیا: فریادی
عمرکوٹ (رپورٹ: کانجی مل رکھیسر) – عمرکوٹ شہر کے موتی چوک کے قریب بے دردی سے قتل کیے گئے نوجوان کے واقعے کا مقدمہ مقتول کے والد کی فریاد پر اس کے کزن الہداد سمیجو اور دو نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے مرکزی ملزم الہداد سمیجو کو گرفتار کر لیا ہے۔ مقتول کے گھر میں کہرام مچا ہوا ہے۔
خبر کے مطابق عمرکوٹ شہر کے کاروباری علاقے موتی چوک میں گلا کاٹ کر قتل کیے گئے نوجوان اسماعیل سمیجو کے واقعے کا مقدمہ مقتول کے والد جمال الدین سمیجو کی فریاد پر ان کے کزن الہداد سمیجو اور دو نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں فریادی والد جمال الدین سمیجو نے موقف اختیار کیا ہے کہ میرا بڑا بیٹا 25 سالہ محمد اسماعیل، جو شادی شدہ تھا اور کرائے پر جیپ چلاتا تھا، جبکہ نامزد ملزم الہداد ہمارے گاؤں اکلو میں رہتا ہے۔ ہمارے گھروں کے سامنے سرکاری زمین موجود ہے جس پر تنازعہ چل رہا تھا، اسی زمین کے تنازعے پر الہداد سمیجو نے میرے بیٹے محمد اسماعیل سے جھگڑا بھی کیا تھا اور وہ رنجش میں مبتلا تھا۔ بعد میں برادری کے معززین نے فیصلہ بھی کروایا تھا کہ کوئی ایک دوسرے کو نہ چھیڑے۔
23 جنوری کو ہماری جیپ خراب ہونے کی وجہ سے ہم نے انجن مرمت کے لیے مستری شیر محمد سمیجو کے گیراج میں کھڑی کی اور کام کے بعد واپس چلے گئے۔ 25 جنوری کو میں، میرا بیٹا محمد اسماعیل اور میرے بھائی علی مراد اور محمد موسیٰ مستری شیر محمد سمیجو کے گیراج آئے اور گاڑی کا کام کروایا۔ رات 9 بجے کے قریب گیراج پر الہداد ولد رمضان آیا اور میرے بیٹے اسماعیل سے کہا کہ آؤ چائے پینے چلیں۔ محمد اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ آپ ٹکرا مارکیٹ میں نائی کی دکان پر آ جائیں، ہم وہاں چائے پی لیں گے، اور ہماری موجودگی میں دونوں روانہ ہو گئے۔
کچھ دیر بعد ہم بھی گیراج سے فارغ ہو کر ٹکرا مارکیٹ موتی چوک کے قریب گلی میں داخل ہوئے اور ساڑھے 9 بجے کے قریب ہریش نائی کی بند دکان کے پاس پہنچے، جہاں تمام دکانیں بند تھیں۔ تھوڑا آگے جا کر ہم نے لائٹ کی روشنی میں دیکھا کہ میرا بیٹا محمد اسماعیل جیترام بھیل کی بند دکان کے تھڑے پر بیٹھا ہے، جبکہ الہداد سمیجو کے ہاتھ میں چھرا تھا اور اس کے ساتھ دو نامعلوم ملزمان بھی تھے جنہیں دیکھ کر پہچان لیں گے۔
ملزم الہداد سمیجو نے ہماری آنکھوں کے سامنے میرے بیٹے محمد اسماعیل کے بالوں میں ہاتھ ڈالا، ہم نے چیخ مچائی، اسی دوران اس نے ہاتھ میں پکڑے چھری سے محمد اسماعیل کے گلے پر وار کیا جس سے اس کا گلا کٹ گیا اور خون بہنے لگا۔ ہم تینوں بھائیوں نے ملزمان کو پکڑنے کی کوشش کی اور موتی چوک کی طرف دوڑے، جہاں شہریوں نے بتایا کہ زخمی محمد اسماعیل کو گاڑی میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ہم بھی پیچھے اسپتال پہنچے جہاں دیکھا کہ میرا بیٹا فوت ہو چکا تھا۔
پولیس کو اطلاع دی گئی، پولیس نے موقع پر پہنچ کر قانونی کارروائی کی، پوسٹ مارٹم کروایا گیا اور لاش کی تدفین کے بعد اب میں حاضر ہو کر فریاد درج کروا رہا ہوں کہ ملزم الہداد سمیجو اور اس کے ساتھ دو نامعلوم ملزمان، جنہیں دیکھ کر شناخت کریں گے، کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مقدمے میں مرکزی ملزم نامزد الہداد سمیجو کو عمرکوٹ پولیس نے حیدرآباد سے گرفتار کر لیا ہے۔ قتل کے واقعے کے بعد مقتول کے گھر میں شدید رنج و غم اور کہرام برپا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایچ او سٹی احمد بخش راہمون نے بتایا کہ مرکزی ملزم الہداد سمیجو کو حیدرآباد سے گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔
مقتول محمد اسماعیل کے ورثاء سے تعزیت کے لیے سیاسی و سماجی حلقوں کے افراد تعزیتی نشست پر پہنچے۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے ایم پی اے امیر علی شاہ، پیپلز پارٹی کے ایم این اے پیر امیر علی شاہ جیلانی، ایس ایس پی عمرکوٹ عزیز میمن، ضلع تھرپارکر کونسل کے چیئرمین غلام حیدر سمیجو، ڈاکٹر کٹو مل جیوَن کے فرزند راہول جیوَن، پیپلز پارٹی کے رہنما برھان کنبھڑ، قاسم ساند، اسسٹنٹ کمشنر رجب سٹھيو، مختیارکار علی شیر سمیجو، سی ایم او سید ساجد علی شاہ، سماجی رہنما کنہیا موہن لال رتناڻي سمیت دیگر افراد نے تعزیتی مقام پر پہنچ کر دکھ کا اظہار کیا۔
پیپلز پارٹی کے ایم پی اے سید امیر علی شاہ اور ایم این اے پیر امیر علی شاہ جیلانی نے کہا کہ ہم اس غم کی گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں اور قاتل ملزم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، متاثرہ خاندان کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔
0 تبصرے