ملزمان اسے دادی سے الگ کر کے دوسرے کمرے میں لے جاتے، منہ بند کر کے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے تھے۔ آسيه کهوسو
جیکب آباد: عدالت میں زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی آسيه کهوسو کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا۔
جیکب آباد کی عدالت میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کے واقعے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی نے دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا۔
متاثرہ لڑکی نے دفعہ 164 کے بیان میں کہا کہ 8 ملزمان ایک ہفتے تک اس کے ساتھ زیادتی کرتے رہے، ملزمان اسے دادی سے الگ کر کے دوسرے کمرے میں لے جاتے، منہ بند کر کے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے تھے۔
چوکی انچارج مقصود سنجرانی اور بڑے منشی یاسین نوناری نے اس کے کانوں میں پہنیں ہوئی سونے کی بالیاں بھی اتار لی تھیں۔
ایف آئی اے نے لڑکی کے دفعہ 164 کے بیان کے بعد بڑے منشی یاسین نوناری کا نام بھی کیس میں شامل کر لیا ہے۔
عدالت نے ملزمان کو مزید 5 دن کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کرتے ہوئے سماعت یکم فروری تک ملتوی کر دی۔
0 تبصرے