گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر کا اعلان، دو سال میں مکمل ہوگا، ایک دکان اضافی نہیں بنےگی*
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے سانحے پر سندھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے متاثرین اور متاثرہ تاجروں کے لیے امداد، بحالی اور احتساب پر مشتمل ایک جامع پیکج کا اعلان کیا اور اس واقعے کو سیاسی رنگ دینے اور اسے اٹھارویں آئینی ترمیم سے جوڑنے کی کوششوں کو سختی سے مسترد کر دیا۔
خطاب کے آغاز میں وزیراعلیٰ نے سانحے کے شہداء کے لیے دعا، سوگوار خاندانوں کے لیے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا المیہ ہے جس کے لیے الفاظ ناکافی ہیں، معصوم جانیں ضائع ہوئیں اور پورے شہر پر غم کی فضا طاری ہو گئی۔
*جانی نقصان، لاپتا افراد*
ایوان کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ ابتدا میں 88 افراد کو لاپتا رپورٹ کیا گیا جن میں سے ایک نام غلطی سے شامل تھا جبکہ پانچ نام دہرائے گئے تھے، یوں تصدیق شدہ لاپتا افراد کی تعداد 82 رہ گئی۔ اب تک 61 لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ 15 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
انہوں نے ارکان اسمبلی کو بتایا کہ 45 لاشوں کی ڈی این اے کے ذریعے شناخت کا عمل مکمل ہو چکا ہے جن میں سے اب تک 15 متاثرین کی شناخت ہو گئی ہے جبکہ باقی کیسز پر عمل جاری ہے۔
وزیراعلیٰ نے واقعے کی لمحہ بہ لمحہ تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ 17 جنوری 2026 (ہفتہ) کو رات 10 بج کر 14 منٹ پر گراؤنڈ فلور پر آگ بھڑکی، پہلی ہنگامی کال رات 10 بج کر 26 منٹ پر موصول ہوئی اور پہلی فائر ٹینڈر گاڑی 10 بج کر 27 منٹ پر روانہ کی گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومتی نمائندہ، کمشنر کراچی اور پولیس آگ لگنے کے 16 منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے۔
وزیراعلیٰ نے ریسکیو آپریشن کے دوران بعض اہم شخصیات کے غیر ضروری دوروں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ فون پر ہدایت کے باوجود، کہ جاری ہنگامی کام اور شدید رش کے باعث موقع پر نہ آیا جائے، کچھ افراد محض ٹیلی وژن کوریج کے لیے وہاں پہنچنے پر اصرار کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دوروں سے ریسکیو ٹیموں کو اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور امدادی کام متاثر ہوئے۔
*اٹھارویں آئینی ترمیم سے قبل کی بے ضابطگیاں*
اٹھارویں آئینی ترمیم کو سانحے کی وجہ قرار دینے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے گل پلازہ کی تاریخ بیان کی اور انکشاف کیا کہ بیشتر بے ضابطگیوں کی منظوری کئی دہائیاں قبل دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اصل منصوبے کے مطابق صرف بیسمنٹ اور دو منزلوں کی اجازت تھی جبکہ بعد ازاں اضافی منزلیں منظور کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ پلاٹ ابتدا میں 1884 میں 99 سال کے لیے لیز پر دیا گیا تھا جو 1983 میں ختم ہو گئی اور 1991 میں اُس وقت کی شہری انتظامیہ کے تحت اس کی تجدید کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمارت کی خلاف ورزیوں کو 2003 میں باقاعدہ کیا گیا جو اٹھارویں آئینی ترمیم سے بہت پہلے کی بات ہے۔
ایک واضح اشارے میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ وہی شخص، جس نے ماضی میں بطور میئر گل پلازہ کی لیز پرانی تاریخوں کی بنیاد پر تجدید کی منظوری دی تھی، آج قومی اسمبلی میں اس کے خلاف قرارداد پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے اس تضاد کو سیاسی موقع پرستی کی کھلی مثال قرار دیا جبکہ اس وقت توجہ احتساب، امداد اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی پر ہونی چاہیے۔
انہوں نے ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لاشوں پر آئینی سوالات اٹھانا اور اس المیے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ایک جرم ہے اور سوال کیا کہ اختیارات کی منتقلی سے قبل ایسی بے ضابطگیوں کی منظوری کس نے دی تھی۔
*امدادی اور بحالی پیکج*
جامع امدادی منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے کی مالی امداد پہلے ہی جاری کر چکی ہے اور کمشنر کو ہدایت دی گئی ہے کہ تصدیق کے بعد رقم کی فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
متاثرہ تاجروں کے لیے انہوں نے فی دکان پانچ لاکھ روپے فوری مالی امداد کا اعلان کیا تاکہ وہ اپنا گذر برسر کرسکیں۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ دو ماہ کے اندر متبادل تجارتی جگہ فراہم کرنے کا منصوبہ ہے جس کے لیے دو عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں مجموعی طور پر 850 دکانیں موجود ہیں۔ ان عمارتوں کے مالکان نے ایک سال کے لیے کرایہ معاف کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جبکہ اسے دو سال تک کرایہ فری کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اس کے علاوہ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہر متاثرہ تاجر کو سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ کے ذریعے ایک کروڑ روپے تک کا بلا سود قرض فراہم کیا جائے گا، جس کی ضمانت سندھ حکومت دے گی اور سود کی رقم بھی صوبائی حکومت خود برداشت کرے گی۔
*تعمیرِ نو اور احتساب*
وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ گل پلازہ کو منہدم کر کے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے منظور شدہ نقشے کے مطابق دوبارہ تعمیر کیا جائے گا جس میں دکانوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا اور تعمیرِ نو کا عمل دو سال میں مکمل کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ مقدمات درج کیے جائیں گے اور تمام ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
*شہر بھر میں حفاظتی اصلاحات*
وزیراعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ کراچی بھر میں عمارتوں کے اسٹرکچرل اور فائر سیفٹی آڈٹس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اب تک 300 سے زائد عمارتوں کا معائنہ کیا جا چکا ہے۔ جن عمارتوں میں حفاظتی انتظامات موجود نہیں ہوں گے، انہیں مختصر مہلت دی جائے گی جس کے بعد عدم تعمیل کی صورت میں انہیں سیل کر دیا جائے گا۔
مراد علی شاہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ تمام ہنگامی امدادی اداروں کو ایک متحد کمانڈ کے تحت لانے، عمارتوں کے لیے لازمی انشورنس قوانین متعارف کرانے، اور ریگولیٹری نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
*خفیہ ایجنڈوں کے خلاف انتباہ*
خطاب کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے ناقدین پر زور دیا کہ وہ حکومت کا احتساب کریں، تاہم قومی سانحات کے دوران خفیہ ایجنڈوں کو آگے بڑھانے سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ آگ، سیلاب اور دیگر آفات کے وقت عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔
وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ متاثرین کو انصاف، متاثرہ افراد کو ریلیف اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات سندھ حکومت کی اولین ترجیحات رہیں گی۔
0 تبصرے