*کراچی کے 7 اضلاع میں 409 سڑکوں کی بحالی کے لیے 10 ارب 93 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ*
کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں سڑکوں کی بحالی کےلیے مجموعی طور پر 21 ارب 53 کروڑ روپے کے جامع پیکج کی منظوری دے دی ہے جس میں ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور بہتری کے لیے 13 ارب روپے کی گرانٹ اِن ایڈ شامل ہے۔
اس اقدام کا مقصد ٹریفک کی روانی بہتر بنانا، عوامی تحفظ میں اضافہ کرنا اور صوبائی دارالحکومت میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری رحیم شیخ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا کہ کراچی کی 24 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز نے شدید خستہ حال سڑکوں اور گلیوں کی مرمت کے لیے فنڈز کی درخواست کی ہے۔ مالی مشکلات کے باعث یہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز خود ان منصوبوں پر عملدرآمد کرنے سے قاصر ہیں۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ کراچی کے سات اضلاع میں مجموعی طور پر 409 سڑکوں کی بحالی کی ضرورت ہے جن میں سے 400 سڑکوں پر پیچ ورک جبکہ نو سڑکوں کی مکمل ازسرنو تعمیر درکار ہے۔
ناصر حسین شاہ کی جانب سے پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق کراچی کے سات اضلاع میں 409 سڑکوں کی بحالی کے لیے 10 ارب 93 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ان میں سے 400 سڑکوں پر پیچ ورک جبکہ شدید ساختی نقصان کے باعث نو سڑکوں کی ایک سرے سے دوسرے سرے تک تعمیر نو کی جائے گی۔ میئر نے بتایا کہ سیوریج اور پانی کی فراہمی کے منصوبوں کے لیے اضافی 15 فیصد یعنی ایک ارب 64 کروڑ روپے درکار ہوں گے، جس کے بعد اس جزو کی مجموعی لاگت 12 ارب 57 کروڑ روپے ہو جائے گی۔
ضلع وار تخمینوں کے مطابق ضلع ملیر میں سب سے زیادہ 98 سڑکوں کی نشاندہی کی گئی ہے، اس کے بعد ضلع غربی میں 81، وسطی میں 53، جنوبی میں 50، شرقی میں 49، کورنگی میں 39 اور کیماڑی میں 39 سڑکیں شامل ہیں۔ سب سے زیادہ ممکنہ لاگت ضلع کیماڑی کے لیے 2 ارب 32 کروڑ روپے، اس کے بعد ضلع غربی کے لیے 2 ارب 31 کروڑ روپے اور ضلع شرقی کے لیے ایک ارب 85 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 24 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز اپنے اپنے دائرہ اختیار میں اندرونی سڑکوں کی بحالی کے منصوبوں پر عملدرآمد کریں گی۔ ان میں ٹاؤن میونسپل کارپوریشن منگھوپیر کے لیے ایک ارب 75 کروڑ روپے، ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گڈاپ کے لیے 96 کروڑ روپے، ٹاؤن میونسپل کارپوریشن بلدیہ کے لیے 94 کروڑ 40 لاکھ روپے اور ٹاؤن میونسپل کارپوریشن ماڑی پور کے لیے 85 کروڑ 80 لاکھ روپے کی بڑی رقوم شامل ہیں۔ بیشتر اسکیموں میں پیچ ورک شامل ہے جبکہ گلبرگ، گلشن، جناح، سہراب گوٹھ، اورنگی، منگھوپیر، صدر اور لانڈھی میں منتخب سڑکوں کی ایک سرے سے دوسرے سرے تک بحالی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ بحالی اقدامات شہری نقل و حرکت، عوامی تحفظ اور کراچی کے مجموعی سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
وزیراعلیٰ نے سات جنوری کو ہونے والے سابقہ اجلاس میں دی گئی اپنی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن 26 بڑی سڑکوں کی بحالی کرے گی۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے پیش کردہ تخمینوں کے مطابق کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے تحت سڑکوں کی تعمیر نو اور ری سرفیسنگ کے لیے 5 ارب 53 کروڑ روپے، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ذریعے فوری پانی اور سیوریج مرمت کے لیے ایک ارب روپے، برساتی نالوں کی حفاظتی دیواروں کی تعمیر اور مضبوطی کے لیے ایک ارب روپے اور اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب و بہتری کے لیے ایک ارب روپے درکار ہوں گے۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے تحت کاموں کی مجموعی لاگت 8 ارب 53 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
سید مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ کراچی کی سڑکوں کی بروقت بحالی معاشی ترقی اور عوامی سہولت کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو منظوری کے عمل کو تیز کرنے اور تمام منصوبوں پر شفاف اور معیاری عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ عوامی سہولیات اور شہریوں کا تحفظ سندھ حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ تمام منظور شدہ اسکیموں میں شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ نے محکمہ خزانہ کو فوری طور پر فنڈز جاری کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ خستہ حال سڑکوں، سیوریج نظام اور اسٹریٹ لائٹس سے متعلق ترقیاتی کام شروع کیے جا سکیں۔
ناصر حسین شاہ نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کی میگا اسکیم کی مجموعی لاگت 10 ارب 93 کروڑ روپے ہے، جس میں 10 ارب 68 کروڑ روپے سڑکوں کے پیچ ورک اور 24 کروڑ 80 لاکھ روپے مکمل سڑکوں کی بحالی کے لیے مختص ہیں۔ اس کے علاوہ سیوریج اور پانی کی فراہمی کے کاموں کے لیے 15 فیصد یعنی ایک ارب 64 کروڑ روپے، سندھ ریونیو بورڈ کے چارجز کے لیے پانچ فیصد یعنی 62 کروڑ 80 لاکھ روپے اور ہنگامی اخراجات کے لیے ایک فیصد یعنی 12 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس طرح ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز سے متعلق منصوبوں کی مجموعی لاگت 13 ارب 32 کروڑ روپے لگائی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ محکموں اور ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کو ہدایت کی کہ سڑکوں، سیوریج اور پانی کی فراہمی کے کاموں میں باہمی ہم آہنگی یقینی بنائی جائے تاکہ بار بار کھدائی اور شہریوں کو درپیش مشکلات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔
0 تبصرے