تہران (ویب ڈیسک) Ministry of Foreign Affairs of Iran کے ترجمان Esmail Baghaei نے کہا ہے کہ ایران سرنڈر کا مطلب نہیں جانتا اور اپنی سرزمین کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔
تہران میں پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو طویل اور تھکا دینے والے مذاکرات سے کوئی فائدہ نہیں، اور کسی بھی جوہری معاہدے کے لیے ایرانی قوم کے مفادات سرخ لکیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اسماعیل بقائی کے مطابق خطے میں یورپی فوجی دستوں کو دہشتگرد تصور کیا جائے گا، جبکہ محدود حملوں سمیت کسی بھی امریکی کارروائی کو جارحیت سمجھا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی صدر Masoud Pezeshkian نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات سے متعلق مثبت اشارے ملے ہیں اور امریکی اقدامات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران خطے میں امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ حالیہ مذاکرات میں عملی تجاویز کا تبادلہ ہوا اور حوصلہ افزا اشارے موصول ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے اقدامات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
0 تبصرے