اسلام آباد (ویب ڈیسک) افغانستان میں فضائی کارروائی سے متعلق حکومت کا باضابطہ مؤقف سینیٹ میں پیش کر دیا گیا، جس میں انکشاف کیا گیا کہ افغانستان نے طالبان کو دوسری سرحد پر منتقل کرنے کے لیے پاکستان سے 10 ارب روپے کا مطالبہ کیا۔
پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے سینیٹ اجلاس میں بتایا کہ پاکستان کے وزیرِ دفاع نے افغانستان کے مطالبے پر کہا کہ ہم 10 ارب روپے دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن اس بات کی ضمانت دی جائے کہ اس کے بعد مداخلت نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ دہشتگردی کے واقعات میں افغان شہری ملوث ہیں۔ دہشتگردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر پاکستان ایئر فورس نے افغانستان میں کامیاب کارروائیاں کیں۔ پاکستان نے افغانستان کے تین صوبوں میں مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں اور ان فضائی حملوں کا ایک پس منظر ہے۔ پاکستان متعدد بار افغانستان کو اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کا کہتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹرائیک صرف دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور تربیتی کیمپوں پر کی گئی۔ پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ پاکستان اب جنازے نہیں اٹھائے گا، ہر شہید کے خون کا حساب لیا جائے گا اور دہشتگردی کے خاتمے تک ہمارا آپریشن جاری رہے گا۔
0 تبصرے