دھرنے کے باعث لاڑکانہ–حیدرآباد روڈ دادو ٹول پلازہ مخدوم بلال کے مقام پر بلاک کر دیا گیا، جبکہ ٹائروں کو آگ لگا دی گئی
دادو: پولیس کے ہاتھوں مارے گئے نادر جمالی والے واقعے کے خلاف جمالی برادری نے سول سوسائٹی کے ہمراہ انڈس ہائی وے پر دھرنا دے دیا۔ دھرنے کے باعث لاڑکانہ–حیدرآباد روڈ دادو ٹول پلازہ مخدوم بلال کے مقام پر بلاک کر دیا گیا، جبکہ ٹائروں کو آگ لگا دی گئی۔
دھرنے کے سبب انڈس ہائی وے دونوں اطراف سے بند ہو گئی اور ہزاروں گاڑیاں سڑکوں پر پھنس کر رہ گئیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نادر جمالی ایک سماجی کارکن تھے جنہیں دادو پولیس نے مبینہ طور پر جعلی مقابلہ ظاہر کر کے بے دردی سے قتل کیا۔
جمالی برادری کے مطابق نادر جمالی کو ایک سازش کے تحت پولیس نے قتل کیا، واقعے کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔ برادری کا کہنا تھا کہ نادر جمالی کا پولیس کے ہاتھوں بے رحمانہ قتل دراصل انسانیت کا قتل ہے، قاتلوں کو سخت سزا دے کر نادر جمالی کے خون کے ساتھ انصاف کیا جائے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ایس ایس پی دادو امیر سعود مگسی، ایس ایچ او قربان قمبرا نی، سی آئی اے انچارج بینظیر جمالی سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے انصاف فراہم کیا جائے۔ جمالی برادری نے مراد علی شاہ، ضیاء لنجار اور جاوید عالم اوڈھو سے فوری انصاف کی اپیل کی۔
اسی طرح جمالی برادری نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ دادو میں پولیس گردی کا ازخود نوٹس لیا جائے اور عدالت سے بالاتر ہو کر قتل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
جمالی برادری نے اعلان کیا کہ جب تک نادر جمالی کے قتل کا مقدمہ درج نہیں کیا جاتا اور قاتلوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، پورے سندھ میں احتجاج جاری رہے گا۔
0 تبصرے