امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع، فوجی تصادم کے خدشات میں شدید اضافہ۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات معطل ہوچکے ہیں جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ مزید سنگین صورت اختیار کرگیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے درمیان تمام رابطے ختم ہوچکے ہیں، جبکہ ممکنہ امریکی حملے کے پیش نظر قطر میں واقع امریکی ایئر بیس العدید سے کچھ اہلکاروں کو نکالنے کی ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔
ایک سینئر ایرانی اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران نے سعودی عرب، یو اے ای اور ترکیہ سمیت مشرق وسطیٰ کے ممالک کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ ان کے علاقوں میں قائم امریکی اڈے بھی جوابی کارروائی کی زد میں آئیں گے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے اماراتی اور ترک وزرائے خارجہ سے رابطہ کرکے صورتحال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ایران میں امن بحال ہوچکا ہے۔ دوسری جانب پاسداران انقلاب کے مطابق ایران کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہے اور جون کے بعد میزائل ذخائر میں نمایاں اضافہ کیا جاچکا ہے۔
چین نے امریکی صدر کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت اور طاقت کے استعمال کی مخالفت کی ہے، جبکہ بھارت نے اپنے تمام شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ صورتحال تیزی سے ایک بڑے علاقائی بحران کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
0 تبصرے