افغانستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور برفباری کے بعد آنے والے سیلاب نے جانی و مالی نقصان پہنچایا، کم از کم 17 افراد جان سے گئے۔
افغانستان کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں اور برفباری کے بعد اچانک آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد جاں بحق جبکہ 11 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ افغان حکام کے مطابق یہ بارشیں طویل خشک سالی کے بعد ہوئیں، تاہم پانی کے ریلوں نے کمزور انفرا اسٹرکچر کو بری طرح متاثر کیا۔
افغانستان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان محمد یوسف حماد کا کہنا ہے کہ سیلاب کے باعث سڑکیں، مکانات اور دیگر بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا، بڑی تعداد میں مویشی ہلاک ہوئے اور تقریباً 1800 خاندان براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق افغانستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں دہائیوں پر محیط جنگ، کمزور انفرا اسٹرکچر، جنگلات کی کٹائی اور کچی تعمیرات سیلاب کے نقصانات کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان آئندہ سال 2026 میں بھی شدید انسانی بحران کا شکار ممالک کی فہرست میں شامل رہے گا، جہاں موسمی آفات پہلے سے موجود مسائل کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔
0 تبصرے