جمعرات، 24 ستمبر 2026
بریکنگ

فیصلہ چیلنج نہیں ہو تو حتمی ہوتا، آئین کے مطابق چلنے کی ضرورت ہے، بہانہ تلاش نہ کیاجائے: چیف جسٹس

تازہ ترین 07th May 2023 229 مناظر

جسٹس کارنیلئس نے گورنر جنرل کے اسمبلی توڑنے کو غیرقانونی قرار دیا تھا

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ اگر کوئی فیصلہ چیلنج نہیں ہوتا ہے تو وہ حتمی ہوتا ہے، آئین کے مطابق چلنےکی ضرورت ہے،کوئی بہانہ تلاش نہ کیاجائے۔ آئین میں اقلیتوں کے حقوق پرکانفرنس سے خطاب میں چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ جسٹس کارلنیئس 1960سے 1968تک چیف جسٹس رہے، وہ جب ریٹائر ہوئے تو ان کے کوئی اثاثے نہیں تھے، ججزکوانصاف کرناہے تو جسٹس کارلنیئس جیسے اوصاف ہونے چاہئیں، جسٹس کارنیلئس نے گورنر جنرل کے اسمبلی توڑنے کو غیرقانونی قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 1964میں دوصوبوں نے جماعت اسلامی پرپابندی لگائی، مولانا مودودی کیس میں پابندی ہٹا دی گئی، جسٹس کارنیلئس نےکہا یہ بنیادی انسانی حقوق کامعاملہ ہے، پاکستان کے ہر شہری کوبنیادی حقوق حاصل ہیں، جسٹس کارنیلئس نے کہا ایگزیکٹو آفیسربنیادی حقوق کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے، پاکستان کا آئین اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے، تین دہائیوں کے دوران انتہاپسندی کےباعث بےشمارجانیں گئیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پاکستان کے لیڈرز، ادارے اور عوام آئین کی پاسداری کیلیے پرُعزم ہیں ، اسی حوالےسے سیاسی قیادت نے مذاکرات شروع کیے، آئین اگر کہتا ہے الیکشن 90 دن میں ہوں تویہ ہماری چوائس نہیں ڈیوٹی ہے، آئین کا تحفظ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔
شیئر کریں:

0 تبصرے

تبصرہ کریں

مطلوب خانہ
مطلوب خانہ