امریکا سے اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا

امریکا سے اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا

تہران (ویب ڈیسک): ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی قسم کی بات چیت جاری نہیں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ رات جنگ بندی سے متعلق اعلان کے بعد کہا تھا کہ ایران کے ساتھ نئے مذاکرات پیر سے شروع ہوں گے، تاہم ایران نے اس دعوے کی تردید کر دی ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران اس وقت آبنائے ہرمز سے متعلق عمان کے ساتھ جاری مذاکرات پر مکمل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جو گزشتہ آٹھ دنوں سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ عمان کے ساتھ مشاورت اور تعاون کے ذریعے جلد از جلد ایسا راستہ طے کیا جائے جس سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمان کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مفاہمت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ اسماعیل بقائی کے مطابق، متفقہ راستہ نہ موجودہ شمالی روٹ ہوگا اور نہ ہی موجودہ جنوبی روٹ، بلکہ دونوں فریقوں کی رضامندی سے ایک نیا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کسی بھی صورت میں 28 فروری سے پہلے والی صورتحال پر واپس نہیں آئے گی۔ واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، جس کے ردِعمل میں ایران نے اس اہم بحری گزرگاہ کو عملی طور پر بند کر دیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت کو کنٹرول کرنے اور جہازوں پر فیس عائد کرنے کا حق حاصل ہے۔ امریکا، اس کے خلیجی اتحادیوں، نیز یورپ اور ایشیا کے متعدد ممالک نے ایران کے اس مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا حق پہلے کی طرح مکمل طور پر آزاد اور کھلا ہونا چاہیے۔ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایرانی حکومت نے بحری گزرگاہ کے شمالی حصے میں، ایرانی ساحلی پٹی کے قریب ایک مخصوص راستہ مقرر کیا اور ہدایت کی کہ تمام بحری آمد و رفت اسی راستے سے کی جائے۔