ایک سرکاری افسر کا اچانک لاپتہ ہو جانا سنگین معاملہ ہے، فیاض احمد کو فوری طور پر بحفاظت بازیاب کرایاجائے، فاضل جمیلی/ اسلم خان
کراچی: کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری اسلم خان اور مجلسِ عاملہ نے سینئر صحافی اور کراچی پریس کلب کے رکن سہیل سانگی کے صاحبزادے، جبکہ پریس کلب کے رکن ریاض سہیل کے بھائی فیاض احمد کی پراسرار گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور دیگر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فیاض احمد کو فوری طور پر بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔کراچی پریس کلب سے جاری بیان میں عہدیداروں نے کہا کہ ایک سرکاری افسر کا دفتر سے نکلنے کے بعد اچانک لاپتہ ہو جانا انتہائی سنگین معاملہ ہے، جس کی فوری اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس واقعے میں کسی فرد یا گروہ کا ہاتھ ہے تو اسے فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے-انہوں نے کہا کہ شہریوں، خصوصاً صحافی برادری اور ان کے اہلِ خانہ کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس نوعیت کے واقعات معاشرے میں عدم تحفظ کو فروغ دیتے ہیں، اس لیے متعلقہ ادارے اس کیس کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور فیاض احمد کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنائیں۔کراچی پریس کلب نے کہا کہ اگر فیاض احمد کی فوری اور بحفاظت بازیابی یقینی نہ بنائی گئی تو صحافی برادری کے ساتھ مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔دریں اثناء، ورثاء کے مطابق فیاض احمد، جو نادرا عائشہ منزل میں افسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، گزشتہ روز شام تقریباً 6 بجے اپنی سفید رنگ کی سوزوکی آلٹو کار (رجسٹریشن نمبر BXX-976) میں دفتر سے روانہ ہوئے تھے۔ دفتر سے نکلنے کے کچھ ہی دیر بعد ان کا موبائل فون بند ہوگیا، جس کے بعد سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا اور نہ ہی تاحال ان کا کوئی سراغ مل سکا ہے۔اہلِ خانہ نے واقعے کی اطلاع پولیس کو دے دی ہے اور وفاقی وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ سے اپیل کی ہے کہ فیاض احمد کی فوری اور بحفاظت بازیابی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
0 تبصرے