ایران جنگ کے آخری دن امریکہ میں کیا ہوگا؟ معروف پروفیسر کی بڑی پیشگوئی

چین کے معروف پروفیسر شوکن جیانگ نے ایران اور امریکہ کے جنگ کے انجام کے بارے میں نئی پیشگوئی کر دی

ایران جنگ کے آخری دن امریکہ میں کیا ہوگا؟ معروف پروفیسر کی بڑی پیشگوئی

چین کے معروف پروفیسر شوکن جیانگ نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے انجام کے بارے میں نئی پیشگوئی کر دی ہے۔ شوکن جیانگ کو دنیا میں "چین کا نوسٹراڈیمس" کہا جاتا ہے اور وہ ماضی میں کئی عالمی پیشگوئیوں کے حوالے سے درست ثابت ہو چکے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق پروفیسر جیانگ نے کہا ہے کہ امریکہ کا اصل مقصد صرف ایران کو شکست دینا نہیں بلکہ مارچ 2027 تک مکمل زمینی حملے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اس جنگ کو اپنی سیاسی طاقت مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔ پروفیسر جیانگ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوج اکیسویں صدی کی "ایسیمیٹرک وارفیئر" کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہے۔ انہوں نے تاریخی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 415 قبل مسیح میں ایتھنز کی طاقتور فوج نے اپنے دشمنوں کو کم سمجھنے کے باعث تباہی کا سامنا کیا تھا۔ شوکن جیانگ نے یہ بھی پیشگوئی کی ہے کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو ٹرمپ "ایمرجنسی وار پاورز" استعمال کرتے ہوئے صدارتی انتخابات مؤخر کر سکتا ہے اور اقتدار کے تیسرے دور کے لیے راستہ نکالنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ امریکی آئین کی 22ویں ترمیم کے باوجود ہنگامی حالات میں وہ طویل عرصے تک صدر رہنے کی کوشش کر سکتا ہے، جیسا کہ فرینکلن ڈی روزویلٹ نے کیا تھا۔ پروفیسر شوکن جیانگ دو سال قبل اپنی یوٹیوب ولاگ سیریز "دی ایران ٹریپ" میں پہلے ہی پیشگوئی کر چکے تھے کہ ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ایران کے ساتھ سخت جنگ شروع کرے گا اور جوہری صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے فوجی طاقت کا بھرپور استعمال کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اس جنگ کو "جمہوریت کی بحالی" اور "دہشت گردی کے خاتمے" کے نام پر جائز قرار دے گا۔ واضح رہے کہ ماضی میں شوکن جیانگ کی کئی پیشگوئیاں درست ثابت ہو چکی ہیں، یہاں تک کہ جنگ شروع ہونے کی وجہ بھی ان کے بیان کے مطابق سامنے آئی تھی۔