بلوچستان پولیس نے سندھ کے تین نوجوانوں کو مبینہ مقابلے میں ہاف فرائی کر دیا، ورثاء کا تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ

گاجی کھاوڑ کے گاؤں لشکر خان لاشاری کے رہائشی ہاف فرائی کیے گئے احسان علی لاشاری کے بھائی، اہلیہ، بچوں اور خواتین کا احتجاج

بلوچستان پولیس نے سندھ کے تین نوجوانوں کو مبینہ مقابلے میں ہاف فرائی کر دیا، ورثاء کا تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ

لاڑکانہ (بیورو) ایک ہفتہ قبل ڈیرہ اللہ یار پولیس کے ہاتھوں ہاف فرائی کیے گئے تین نوجوانوں کے ورثاء نے مقابلے کو جعلی قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ ہاف فرائی ہونے والوں میں ڈوکری کے قریب گاؤں فیض محمد کوکھر کے رہائشی اصغر علی جتوئی بھی شامل ہیں۔ زخمی اصغر علی جتوئی کے بھائی محبوب جتوئی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دوست گاجی کھاوڑ کے علاقے کے رہائشی احسان علی لاشاری اور الطاف سولنگی کے ساتھ بلوچستان گھومنے گئے تھے۔ واپسی کے بعد ڈیرہ اللہ یار پولیس نے گزشتہ 6 مارچ کی صبح اصغر علی جتوئی سمیت تین افراد کو شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد اٹھا کر لاپتا کر دیا اور بعد میں جعلی مقابلے میں زخمی کر دیا جو ظلم اور زیادتی ہے۔ انہوں نے بااختیار حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر شفاف تحقیقات کرا کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔ دوسری طرف گاجی کھاوڑ کے قریب گاؤں لشکر خان لاشاری کے رہائشی ہاف فرائی کیے گئے احسان علی لاشاری کے بھائی، اہلیہ، بچوں اور خواتین نے قرآن پاک اٹھا کر احتجاج کیا۔ اس موقع پر احسان لاشاری کے بھائی پیاس لاشاری، اہلیہ خیرالنساء، حسنا خاتون، رفیع اللہ، بیٹیوں گلزادی، دعا بتول، ربینا اور دیگر نے کہا کہ احسان لاشاری یہاں ہاروی کے لیے مزدوری کرنے بلوچستان کے علاقے جھٹ پٹ گیا تھا، لیکن ڈیرہ اللہ یار کی پولیس نے اسے جعلی مقابلہ ظاہر کر کے زخمی کیا اور اس کی ٹانگ کاٹ دی، جو ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ زیادتی کی گئی ہے، یہ گھر کا واحد کمانے والا ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ عید کے لیے کمانے جا رہا ہوں، لیکن احسان لاشاری کو بے گناہ گولیاں مار کر زخمی کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے پولیس افسران اسحاق کوسو اور دورو لاشاری نے انہیں پکڑ کر احسان لاشاری کو ٹانگ میں گولیاں مار کر زخمی کیا جس کے باعث اس کی ٹانگ کٹ گئی ہے۔ احسان لاشاری اور دیگر کو پکڑ کر گولیاں ماری گئیں۔ آپ ویڈیو دیکھیں، کیا مقابلہ اس طرح ہوتا ہے؟ انہوں نے آئی جی بلوچستان اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا نوٹس لے کر انصاف فراہم کیا جائے۔