اسلام آباد/تہران/تل ابیب/واشنگٹن (ویب ڈیسک) ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں مبینہ طور پر جوہری ہتھیاروں سے متعلق ایک کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ خطے میں بحری جہازوں، ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
ادھر ایران میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر حملے کے بعد امریکا میں بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں اور امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے وزیرِ دفاع سے وضاحت طلب کر لی ہے۔
برطانوی میری ٹائم حکام کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد خلیج، آبنائے ہرمز اور خلیجِ عمان میں کئی جہازوں پر حملوں کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں، جبکہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کی خبر بھی سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بہت جلد نمایاں طور پر کم ہو جائیں گی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تنازع کے پرامن حل پر زور دیا ہے۔
اسی دوران عراق نے اپنے آئل ٹرمینلز کا آپریشن معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ رپورٹس کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے ابتدائی چھ دنوں میں امریکا کو اربوں ڈالر کے اخراجات برداشت کرنا پڑے ہیں۔
دوسری طرف ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو اسرائیلی عوام کے لیے ایک بڑی آفت قرار دیا ہے، جبکہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو “مکمل سزا” دینے تک جنگ جاری رکھی جائے گی۔
0 تبصرے