ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور خودکش حملہ: منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، سہولت کار بے نقاب

پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے کی تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آ گئے، حملے کے تانے بانے افغانستان سے جاملے۔

ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور خودکش حملہ: منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، سہولت کار بے نقاب

فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پشاور میں ہونے والے خودکش دھماکوں کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی جبکہ خودکش بمباروں کے سہولت کاروں کا تعلق بھی افغانستان سے ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق حملے کے نیٹ ورک سے منسلک متعدد اہم کرداروں کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور واقعے سے متعلق کئی مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے، جن سے مزید تفتیش جاری ہے۔ واضح رہے کہ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پشاور پر دہشت گردوں نے گزشتہ سال 24 نومبر کو حملہ کیا تھا، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور جرات مندانہ کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے تین جوان شہید جبکہ پانچ اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کی اس کارروائی میں آٹھ معصوم شہری بھی زخمی ہوئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور حملے میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔