حیدرآباد (بيورو) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کے چیئرمین میر غلام علی تالپور نے کہا ہے کہ مہارتوں کی ترقی، سود سے پاک مالی معاونت، اثاثوں کی منتقلی اور چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کا فروغ کمیونٹیز کو بااختیار بنانے اور پاکستان میں غربت کے پائیدار خاتمے کے لیے نہایت اہم ستون ہیں۔ وہ وزیراعظم سود سے پاک قرض پروگرام کے تحت چیکوں کی تقسیم کی تقریب اور ’ایچ این فوڈ پروڈکٹس‘ فیکٹری کے افتتاح کے موقع پر بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ سافکو ہیڈ آفس حیدرآبادسے جاری کردہ بیان کے مطابق کراچی میں منعقدہ اس تقریب میں سیکریٹری غربت میں کمی و سماجی تحفظ نوید احمد شیخ، سافکو، سیمیڈا، سول سوسائٹی تنظیموں اور میڈیا کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں میر غلام علی تالپور نے سماجی تحفظ، روزگار کی معاونت، کاروباری ترقی اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کو یکجا کرنے کے لیے ’پی پی اے ایف‘ کے مربوط ترقیاتی ماڈل کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کمزور طبقات، بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کو انحصار سے خودداری اور باوقار ذریعۂ معاش کی جانب منتقل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے یورپی یونین، ترقیاتی اداروں، انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹراور حکومتی شراکت داروں کے کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے تعلیم اور مہارت پر مبنی تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پی پی اے ایف پر زور دیا کہ نوجوانوں کے لیے مزید اسکل بیسڈ پروگرامز متعارف کرائے جائیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر گل باریچ نے کہا کہ پی پی اے ایف ملک کے 150 اضلاع میں 164 مقامی تنظیموں کے اشتراک سے شواہد پر مبنی اقدامات کے ذریعے معاشی گریجویشن کے فروغ میں پیش پیش رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہارتوں، مالی وسائل اور منڈیوں تک رسائی بین النسلی غربت کے خاتمے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ مالی شمولیت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کے بلا سود قرض پروگرام کے تحت پی پی اے ایف نے ملک کے 67 اضلاع میں 49.3 ارب روپے مالیت کے 13.5 لاکھ سے زائد بلا سود قرضے فراہم کیے ہیں۔ صوبہ سندھ میں 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد قرضے تقسیم کیے گئے جن کی مجموعی مالیت 9.86 ارب روپےہے۔ انہوں نے کہا کہ “آج کی چیک ڈسٹری بیوشن خود انحصاری کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے، جس سے مستفید افراد اپنے روزگار، مائیکرو انٹرپرائزز اور چھوٹے کاروبار میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔ انہوں نے ’گراسپ‘ منصوبے کے تحت کاروباری ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ یورپی یونین کے تعاون سے ’انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر‘ کے ذریعے ’فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن‘، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ اور شراکت دار اداروں کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے تحت سندھ اور بلوچستان میں 45 ہزار 726 چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کو متحرک کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 1.12 ارب روپے کے قرضے اور1.32 ارب روپے کی میچنگ گرانٹس فراہم کی گئیں، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری میں اضافہ، فروخت میں بہتری آئی، 40 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور 80 فیصد کاروباروں نے موسمیاتی لحاظ سے موزوں اور صاف پیداواری طریقے اپنائے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انعام الحق، نمائندہ ہوم ڈیپارٹمنٹ سندھ برائے ’سینٹر فار ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم‘ نے کہا کہ حکومت معاشرتی و اقتصادی حالات بہتر بنانے اور انتہاپسند نظریات کے سدباب کے لیے ایسے اقدامات کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتِ سندھ نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے تمام دستیاب مواقع فراہم کر رہی ہے تاکہ سماجی ہم آہنگی اور شمولیتی معاشرہ فروغ پا سکے۔ انہوں نے نچلی سطح پر غریب ترین طبقات کی زندگیوں میں بہتری کے لیے پی پی اے ایف کی کاوشوں کو سراہا۔ تقریب کے دوران کراچی کے نارتھ انڈسٹریل ایریا میں قائم ’ایچ این فوڈ پروڈکٹس‘ جو گراسپ کے تحت معاونت یافتہ فوڈ پروسیسنگ یونٹ ہے، کا افتتاح بھی کیا گیا۔ ایچ این فوڈز کو اپنے زراعت سے متعلقہ کاروبار کو بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے 20 ملین روپے کی گرانٹ کا چیک بھی دیا گیا۔ تقریب میں پسمادہ طبقوں کی اقتصادی بااختیاری پروجیکٹ کے تحت پیشہ ورانہ اور مہارتی تربیتی پروگرامز کے فارغ التحصیل افراد میں اسناد کی تقسیم کی گئیں۔ جبکہ سافکو، ایچ این فوڈ پراڈکس اور دیگر کو اعزازي شیلڈس دی گئیں۔
0 تبصرے