سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ

تحریر: سیدہ سونیا منور

سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ

پاکستان میں حالیہ دنوں کے دوران سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے عام شہریوں، سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ سونا نہ صرف زیورات کی صورت میں استعمال ہوتا ہے بلکہ پاکستان میں اسے محفوظ سرمایہ کاری بھی سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں ہونے والی تبدیلی براہِ راست عوامی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سونے کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ عالمی منڈی میں سونے کے نرخوں میں اضافہ ہے۔ چونکہ سونا عالمی سطح پر امریکی ڈالر میں خریدا اور فروخت کیا جاتا ہے، اس لیے عالمی مارکیٹ میں معمولی سا اضافہ بھی پاکستان میں قیمتوں کو اوپر لے جاتا ہے۔ پاکستان سونا درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی رجحانات کا براہِ راست اثر مقامی منڈی پر پڑتا ہے۔ دوسری اہم وجہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہے۔ جب روپے کی قیمت گرتی ہے تو درآمدی اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں، جن میں سونا بھی شامل ہے۔ ڈالر مہنگا ہونے سے سونے کی درآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا بوجھ آخرکار صارف پر پڑتا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور افراطِ زر بھی سونے کی قیمتوں میں اضافے کا ایک اہم سبب ہیں۔ جب روزمرہ استعمال کی اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں اور کرنسی پر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے تو لوگ اپنی بچت کو محفوظ رکھنے کے لیے سونا خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے طلب میں اضافہ ہوتا ہے اور قیمتیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ سیاسی اور معاشی عدم استحکام بھی سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پاکستان میں جب سیاسی صورتحال غیر یقینی ہو، پالیسیوں میں تسلسل نہ ہو یا معیشت دباؤ کا شکار ہو تو سرمایہ کار دوسرے شعبوں کے بجائے سونے میں سرمایہ کاری کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر جنگی حالات، مالی بحران، شرحِ سود میں تبدیلی اور عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ بھی سونے کی قیمتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں دنیا بھر کے سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں، جس سے عالمی طلب میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کا اثر پاکستان کی مقامی مارکیٹ تک پہنچتا ہے۔ مقامی سطح پر اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹ میں قیاس آرائی بھی سونے کی قیمتوں میں غیر فطری اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔ بعض اوقات مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں، جس سے عام خریدار سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ملک کی معیشت مستحکم نہیں ہوتی، روپے کی قدر بہتر نہیں ہوتی اور عالمی حالات سازگار نہیں ہوتے، تب تک سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی اصلاحات، برآمدات میں اضافہ اور سیاسی استحکام کے ذریعے معیشت کو مضبوط کیا جائے تاکہ سونے سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں توازن پیدا ہو سکے۔ سونے کی قیمتوں میں اضافے نے شادی بیاہ اور زیورات کی صنعت کو بھی شدید متاثر کیا ہے، جہاں عام لوگ زیورات کی خریداری محدود کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ صرافہ بازاروں میں کاروباری سرگرمیاں سست پڑ رہی ہیں، جبکہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے سونا مزید دور ہوتا جا رہا ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف زیورات کی صنعت بلکہ اس سے وابستہ ہزاروں کاریگروں کے روزگار پر بھی منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔