کراچی سندھ کا دل اور روح ہے، اس کے تحفظ کے لیے سندھی عوام لڑیں گے: ایاز لطیف پلیجو

ایم کیو ایم کراچی کو سندھ سے الگ کر کے نیا اسرائیل بنانا چاہتی ہے،قومی عوامی تحریک کے سربراہ

کراچی سندھ کا دل اور روح ہے، اس کے تحفظ کے لیے سندھی عوام لڑیں گے: ایاز لطیف پلیجو

حیدرآباد (بیورو) قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو نے کراچی میں ملک دشمن دہشت گرد تنظیم کی جانب سے ’’کراچی کو وفاق کے حوالے کرو‘‘ کے بینرز اور چاکنگ کے عمل پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی سندھ کا دل اور روح ہے، اس کے تحفظ کے لیے سندھی عوام لڑیں گے۔ کراچی کے تحفظ کے لیے سندھ کے لوگ اس طرح لڑیں گے جیسے بہن اور ماں کی عزت کے لیے لڑا جاتا ہے۔ کرپٹ حکمرانوں! آپ ایک بار پھر ایک دہشت گرد تنظیم کو سندھ کی تقسیم جیسی باتیں کرنے کے لیے حوصلہ دے رہے ہیں، جو سندھ کے امن، وحدت اور قومی وجود کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ ایم کیو ایم کراچی کو سندھ سے الگ کر کے نیا اسرائیل بنانا چاہتی ہے۔ ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ اگر کوئی بچوں پر تلوار لے کر آ کھڑا ہو تو جس طرح آدمی لڑتا ہے، کراچی کے تحفظ کے لیے بھی سندھی عوام اسی طرح لڑیں گے اور آپ کو حیران کر دیں گے۔ آپ اور آپ کے جو مددگار یہ کام کریں گے، وہ یاد رکھیں کہ وہ اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماریں گے۔ جو بیج بوئیں گے، اسی بیج کے نتیجے میں غرق، تباہ اور برباد ہو جائیں گے، کوئی بھی نہیں بچے گا۔ ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ اگر وفاق زبردستی کے ذریعے سندھ کو نشانہ بنائے گا تو سات کروڑ سندھی مزاحمت کریں گے۔ کراچی یا دریائے سندھ پر ڈاکہ ڈالنے کا خیال بھول جائیں۔ نہ کراچی چھوڑا جائے گا اور نہ دریا، یہ ممکن نہیں۔ روز نئی چالیں سوچتے ہو، کہتے ہو کہ ہم یہ کریں گے، جو شخص آ کر کہتا ہے کہ میں ایسی کارروائی کروں گا کہ تاریخ میں یاد رکھا جاؤں گا، اس نے یہ بھی سوچا کہ ایوب تاریخ میں یاد رکھا گیا، بھچڑا بن کر اترا؛ یحییٰ نے بھی سوچا؛ ضیاء نے کہا کہ میں یوں کروں گا؛ مشرف بھی مک دکھاتا رہا؛ نواز شریف—ہر شخص جو آتا ہے یہی کہتا ہے کہ ہم یوں کریں گے اور تاریخ میں یاد رکھے جائیں گے۔ تاریخ ان باتوں کی وجہ سے یاد نہیں رکھتی کہ تم نے یہ کیا، تاریخ میں اس بات پر یاد رکھا جاتا ہے کہ تم نے ملک کے لوگوں کا سر دنیا کے سامنے بلند کیا یا نہیں۔ ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ تم نے کہا تھا نا کہ حیدرآباد سندھ میں نہیں، ویسٹ پاکستان میں ہے؛ لاڑکانہ ویسٹ پاکستان میں ہے؛ ون یونٹ ہے؛ دو ہیں ایسٹ پاکستان اور ویسٹ پاکستان—پھر کیا ہوا؟ مارشل لا ضیاء کا کیا ہوا؟ تم نے کہا تھا کہ کالاباغ ڈیم بنائیں گے، پھر بنا سکے؟ دوہرا نظام لانا چاہتے تھے، لا سکے؟ کچھ باتوں میں، محترم صاحبو، اختیار نہیں چلتا۔ سندھی عوام سے چھیڑ چھاڑ نہ کرو۔ سات کروڑ سندھیوں کی رگ میں ہاتھ نہ ڈالو۔ اگر کسی کے پاؤں پر پاؤں آ جائے تو دوسرا آدمی برداشت کر لیتا ہے، آگے مٹی ڈال دیتا ہے، لیکن اگر گردن میں گھونگھرو ڈال دیا جائے تو آدمی لڑ پڑتا ہے، بلی بھی لڑ پڑتی ہے، اس لیے نئے تجربات نہ کرو۔