وفد کی قیادت سینئر ڈپٹی جنرل سیکریٹری الطاف خاصخیلی نے کی، خادم سموں، نذیر بلیدی و دیگر بھی شامل
حیدرآباد (بیورو)
قومی عوامی تحریک کا مرکزی وفد عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے منعقد کی گئی باچا خان امن کانفرنس میں شریک ہوا۔ وفد کی قیادت قومی عوامی تحریک کے سینئر ڈپٹی جنرل سیکریٹری الطاف خاصخیلی نے کی۔ وفد میں جوائنٹ سیکریٹری خادم سموں، ضلعی صدر نذیر بلیدی، بابو میمن اور معشوق چانڈیو شامل تھے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان اور دیگر رہنماؤں نے قومی عوامی تحریک کے وفد کا بھرپور استقبال کیا۔
اس موقع پر باچا خان امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قومی عوامی تحریک کے سینئر ڈپٹی جنرل سیکریٹری الطاف خاصخیلی نے کہا کہ دہشت گردی اور کرپشن اس ملک کے بڑے مسائل ہیں اور یہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ حقیقی جمہوریت نہ ہونے کی وجہ سے ہی یہ مسائل جنم لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلط کیے گئے حکمران تاجر ہیں، جنہوں نے امن کو بیچ دیا ہے۔ قوموں کے وسائل فروخت کر دیے گئے ہیں، دریا بیچ دیے گئے ہیں، پانی بیچ دیا گیا ہے، جزیرے اور بندرگاہیں بھی فروخت کی جا چکی ہیں۔ اقتدار خریدنے کے لیے سب کچھ بیچا جا رہا ہے۔
الطاف خاصخیلی نے کہا کہ امن کا نکتہ حکومت کے ایجنڈے میں ہونا چاہیے، لیکن حکومت کا اصل ایجنڈا قوموں کے وسائل پر قبضہ کرنا اور انہیں فروخت کرنا ہے۔ عوام کو تقسیم کیا جا رہا ہے اور قوموں کے درمیان نفرت پھیلائی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گل پلازہ میں دانستہ آگ لگا کر اب صوبے اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں، جو حکومت کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ اس عمل سے پاکستان مزید بحرانوں کی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان شدید سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہے اور عالمی سامراجی طاقتوں کے نشانے پر ہے۔ پاکستان کو قومی جمہوری برابری، حقیقی جمہوریت اور عدلیہ کی حقیقی آزادی کی ضرورت ہے۔
الطاف خاصخیلی نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی ڈکٹیٹیشن کے تحت نہیں بلکہ خودمختار پالیسیوں کے ذریعے چلایا جانا چاہیے۔
0 تبصرے