رہنماؤں نے اعلان کیا کہ ایم ایس جبار میمن کی منتقلی تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی
ٹھٹھہ (شفیق بھٹی) – پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن یونٹ جھِرک کی جانب سے شروع کی گئی احتجاجی تحریک دوسرے روز بھی جاری رہی۔ محکمہ صحت کے ملازمین نے اسپتال کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ میں سخت نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ نااہل اور کرپٹ ایم ایس جبار میمن کو ہٹایا جائے اور جھِرک اسپتال کو بچایا جائے۔
جے سندھ محاذ کے رہنما امجد شورو نے محکمہ صحت کے ملازمین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مرف این جی او گزشتہ 18 برسوں سے ضلع ٹھٹھہ کے محکمہ صحت اور اسپتالوں کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے۔ جب تک محکمہ صحت اور اسپتالوں کی تباہی کی اصل جڑ مرف مینیجر آدم ملک کو نہیں ہٹایا جاتا، تب تک اسپتالوں میں بہتری ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرف مینیجر آدم ملک نے ریٹائرڈ سرکاری ڈاکٹروں کو تعینات کر کے اسپتالوں کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ نااہل اور کرپٹ ڈاکٹر جبار میمن کو جب سے مرف مینیجر آدم ملک نے جھِرک اسپتال کا ایم ایس مقرر کیا ہے، تب سے جھِرک اسپتال میں عوام کے لیے کوئی بنیادی سہولت میسر نہیں۔ مریض اور ان کے لواحقین پہلے ہی احتجاج اور شور کر رہے تھے، لیکن اب مجبور ہو کر اسپتال کے پیرا میڈیکل اسٹاف نے بھی کیمپ قائم کر کے روزانہ کی بنیاد پر نااہل اور کرپٹ ایم ایس جبار میمن کو ہٹانے کے لیے احتجاج شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب مرف این جی او کے مینیجر آدم ملک نے مذاکرات کے لیے ڈاکٹر شہزاد کی قیادت میں ایک وفد جھِرک بھیجا، جس نے پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن یونٹ جھِرک کے رہنماؤں زاہد جھِرکو، عبدالحئی سومرو اور نظیر سومرو سے بات چیت کی اور کہا کہ ایم ایس جبار میمن کو ہٹانے کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں، باقی مطالبات پر بات کی جائے گی۔
پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے جواب دیا کہ نااہل اور کرپٹ ایم ایس جبار میمن کو ہٹانا ہمارا پہلا مطالبہ ہے، جب تک اس مطالبے پر عمل نہیں ہوتا دیگر مطالبات پر کوئی بات نہیں کی جائے گی۔ اس کے بعد ڈاکٹر شہزاد کی قیادت میں آنے والا وفد واپس روانہ ہو گیا۔
رہنماؤں نے اعلان کیا کہ ایم ایس جبار میمن کی منتقلی تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔
0 تبصرے