ملیر (عبدالرشيد مورجھريو) – سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کے صدر سید خدادنوشاہ نے کراچی کو مرکز کے حوالے کرنے اور سندھ کو تقسیم کرنے سے متعلق ایم کیو ایم کے مطالبے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے اصل وارث قدیم سندھی لوگ ہیں، جنہوں نے کراچی کو آباد کیا اور ہمیشہ کراچی سمیت پورے سندھ کی حفاظت کے لیے اپنا خون پسینہ قربان کیا ہے۔
سید خدا دنو شاہ نے کہا کہ کراچی مورڑی میر بحر، مائی کلاچی، چاکر خان کلمتی، سومڑی گبول اور چاکر جوکيو کے وارثوں کا شہر ہے، جو آج بھی کراچی کی پوری ساحلی پٹی سے لے کر حب ندی تک، دونوں سمندری بندرگاہوں سمیت ملیر اور لیاری جیسے قدیم علاقوں میں بڑی تعداد میں آباد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے مہاجرین کو پناہ دی، انہیں جگہیں فراہم کیں اور بھائی سمجھ کر قبول کیا، لیکن اس کے باوجود مذکورہ گروہ نے تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے کراچی کو فتح شدہ علاقہ سمجھا اور غداری پر مبنی کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 1948ء میں سندھ کے دارالحکومت کراچی کو زبردستی مرکز کے حوالے کیا گیا اور سندھ کے اصل وارث سندھی ہندوؤں کو اپنے ہی وطن سے بے دخل کر کے ان کی جائیدادوں پر قبضے کیے گئے۔
سید خدا دنو شاہ نے الزام لگایا کہ مذکورہ تعصبی گروہ نے کبھی بھی سندھ کے حقوق کے لیے ہونے والی جدوجہد کا ساتھ نہیں دیا، بلکہ کالاباغ ڈیم، دریائے سندھ، پانی کی تقسیم، سندھ کی زمینوں، ساحلی وسائل پر قبضوں اور جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کی بھی مخالفت کی ہے۔
سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کے صدر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تعصبی گروہ سندھ دشمنی سے باز آ جائے، کیونکہ سندھ کے لوگ اپنے وسائل اور حقِ حکمرانی کے لیے جانوں کے نذرانے دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے اور ہمیشہ کی طرح سندھ دشمن سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔
0 تبصرے