مورو کے قریب گاؤں سید اڀریو شاہ کے رہائشیوں کا پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

یعقوب پنھور، انثار پنھور، جاڙو، صدام، عبدالحمید پنھور، مجاہد، اصغر، غلام قادر و دیگر نے احتجاج کیا

مورو کے قریب گاؤں سید اڀریو شاہ کے رہائشیوں کا پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

مورو (جانی جمانی) – مورو کے قریب گاؤں سید اڀریو شاہ کے رہائشی پنھور برادری کے افراد نے پولیس کی ناانصافیوں، گھروں پر چھاپوں، نوجوانوں کو اٹھانے اور جھوٹے مقدمات درج کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کی قیادت یعقوب پنھور، انثار پنھور، جاڙو، صدام، عبدالحمید پنھور، مجاہد، اصغر، غلام قادر، رحیم، سکندر، شاہد، فدا پنھور اور دیگر کر رہے تھے۔ مظاہرین نے کہا کہ ایک ہفتہ قبل انہوں نے سیشن کورٹ میں 22 اے بی دائر کی تھی، جس پر پولیس مشتعل ہو گئی اور ہمارے گھروں پر چھاپے مارے، چار نوجوانوں کو اٹھا کر لے گئی، جن میں سے ایک کو بعد میں رہا کر دیا گیا، جبکہ باقی تین میں سے دو افراد خادم حسین اور انیس پنھور سمیت 7 افراد پر جعلی پولیس مقابلے کا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک نوجوان ایاز پنھور کو لاپتہ کر دیا گیا ہے، جسے تاحال ظاہر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان ڈاکٹروں کے پاس ڈسپنسر ہیں، لیکن پولیس ہمیں دھمکیاں دے رہی ہے کہ اگر سیشن کورٹ میں دائر کی گئی 22 اے بی واپس نہ لی تو تمہارے نوجوان کو ہاف یا فل فرائی کر دیا جائے گا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ نوان جتوئی پولیس کے ایس ایچ او جمیل سولنگی، پولیس اہلکار سید علیم شاہ، علی گل لنجار اور اے ایس آئی غلام حیدر مشوری نے گھروں پر چھاپے مار کر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا، خواتین پر تشدد کیا گیا، گرفتاری کے دوران وارنٹ طلب کیے گئے مگر پیش نہیں کیے گئے، اور لیڈیز پولیس کے بغیر گھروں میں داخل ہوا گیا۔ گھروں سے موٹر سائیکلیں بھی لے جائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم غریب، محنت کش ہاری لوگ ہیں، پولیس روزانہ ہمارے گھروں پر چھاپے مارتی ہے جو سراسر ناانصافی اور ظلم ہے۔ مظاہرین نے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، آئی جی سندھ پولیس، ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد، ایس ایس پی نوشہروفیروز، اے ایس پی مورو اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر ہمیں انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے۔