ایک سال کے دوران سندھ سے 1727 بچے لاپتا، تحقیقاتی ادارے ناکام

ایک سال کے دوران سندھ سے 1727 بچے لاپتا، تحقیقاتی ادارے ناکام

کراچی (پ ر) ملک میں لاپتا بچوں کی تلاش کے لیے کام کرنے والے ادارے روشنی ہیلپ لائن 1138 نے ملک بھر میں گمشدہ بچوں سے متعلق اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق گزشتہ سال سندھ میں سب سے زیادہ 1727 بچوں کے لاپتا ہونے کے کیسز رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق، روشنی ہیلپ لائن کو ملک بھر سے مختلف ذرائع کے ذریعے 3808 لاپتا بچوں کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 3400 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے والدین کے حوالے کر دیا گیا، جبکہ اب بھی پورے ملک میں 408 بچے لاپتا ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ روشنی ہیلپ لائن 1138 کے سربراہ محمد علی نے ریسرچ سیل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گمشدگی کے واقعات مختلف ذرائع سے رپورٹ کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سال 2025 کے دوران سب سے زیادہ رپورٹس پولیس، روشنی ہیلپ لائن کے رضاکاروں، سوشل میڈیا اور روشنی ہیلپ لائن نمبر 1138 کے ذریعے موصول ہوئیں، جن کی بنیاد پر یہ اعداد و شمار مرتب کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق صوبائی سطح پر لاپتا ہونے والے بچوں میں سندھ سب سے زیادہ متاثر رہا، جہاں 1727 بچے لاپتا ہوئے، جبکہ پنجاب سے 1378، خیبر پختونخوا سے 390، بلوچستان سے 17، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 38، آزاد جموں و کشمیر سے 98 اور گلگت بلتستان سے 3 بچوں کے کیسز رپورٹ ہوئے۔ روشنی ہیلپ لائن کے ریسرچ سیل کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، صنفی اعتبار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کی گمشدگی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سال 2025 کے دوران 2858 لڑکے اور 950 لڑکیاں لاپتا ہوئیں۔ عمر کے لحاظ سے، 0 سے 5 سال تک 534، 6 سے 10 سال تک 756، 11 سے 15 سال تک 1920 اور 16 سے 18 سال تک 598 بچے لاپتا ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق، سب سے زیادہ گمشدگیاں 11 سے 15 سال کی عمر کے بچوں میں سامنے آئیں، جو مختلف وجوہات کی بنا پر گھروں سے نکل گئے تھے۔ روشنی ہیلپ لائن نے سال 2025 میں بھی گزشتہ برسوں کی طرح لاپتا بچوں سے متعلق قانون سازی اور پولیس افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے ماہرین کی موجودگی میں تربیتی سیشن منعقد کیے۔ اس سلسلے میں ملک بھر سے 350 سے زائد پولیس افسران کو زینب (زارا) ایکٹ کے حوالے سے تربیت دی گئی اور لاپتا بچوں کے کیسز سے نمٹنے کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی۔ محمد علی نے مزید بتایا کہ سندھ میں پولیس افسران کی حوصلہ افزائی کے لیے بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ کی تین تقریبات منعقد کی گئیں، جن کے دوران لاپتا بچوں کی تلاش اور بازیابی میں نمایاں کارکردگی دکھانے پر 122 پولیس افسران کو ایوارڈز دیے گئے۔ ادارے کے سربراہ نے گزشتہ چند برسوں کے دوران بچوں کے ساتھ جنسی استحصال، بدسلوکی اور تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے واقعات میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسرچ سیل کے مطابق، گزشتہ سال ملک بھر سے لاپتا ہونے والے 3808 بچوں میں سے 39 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں سے تین بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔ محمد علی نے کہا کہ روشنی ہیلپ لائن ملک میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اور بچوں کے جنسی استحصال، فحش ویڈیوز اور سائبر کرائم کے واقعات کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ اعلیٰ حکام کی توجہ بھی اس سنگین مسئلے کی جانب مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ان کا تحفظ ہر صورت ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، جس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ روشنی ہیلپ لائن 1138 نے اس موقع پر شہریوں پر زور دیا ہے کہ لاپتا بچوں کے بارے میں فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا روشنی ہیلپ لائن 1138 پر اطلاع دیں اور پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں روشنی ہیلپ لائن کے ساتھ تعاون کریں۔