ابراہیم حیدری کے جی ایم ایم کالونی میں مزدور کے گھر پر مبینہ حملہ

مزدور رفیق بنگالی اور اس کی بیٹی رشیدہ کی جانب سے مبینہ حملے کے خلاف احتجاج

ابراہیم حیدری کے جی ایم ایم کالونی میں مزدور کے گھر پر مبینہ حملہ

ملیر (رپورٹ: عبدالرشید مورجھریو) – ابراہیم حیدری کے جی ایم ایم کالونی کے علاقے میں بااثر افراد کی جانب سے مزدور رفیق بنگالی کے گھر پر مبینہ طور پر حملہ کر کے زبردستی گھر خالی کرانے کی کوشش کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ واقعے کے خلاف مزدور رفیق بنگالی اور اس کی بیٹی رشیدہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے سال 2019 میں مذکورہ گھر شمشو بنگالی سے خریدا تھا، جس کے تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں جب اپنے گھر پر تعمیراتی کام شروع کیا تو بااثر شخص عارف نے مبینہ طور پر رات گئے تقریباً 12 افراد کے ہمراہ ان کے گھر پر حملہ کیا، اہلِ خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی گھر خالی کرانے کی کوشش کی۔ رفیق بنگالی کے مطابق واقعے کے دوران انہوں نے فوری طور پر 15 پر کال کر کے پولیس سے مدد طلب کی، جس کے بعد حملہ آور گھر کا کچھ سامان اٹھا کر دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہو گئے۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ابراہیم حیدری پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا، جس کے باعث وہ مجبوراً اس واقعے کے خلاف ملیر کورٹ میں پٹیشن دائر کر چکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حملہ آوروں کو بااثر سیاسی شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ وہ کسی بھی وقت دوبارہ حملہ کر کے جانی اور مالی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ رفیق بنگالی اور اس کے اہلِ خانہ نے وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ایس ایس پی ملیر اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ زبردستی قبضے کی کوشش میں ملوث عارف اور اس کے ساتھیوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔