شکارپور کے قریب جرائم پیشہ افراد سے مقابلے کے دوران ایس ایچ او لکھي غلام شاہ خمیسو خان بروہی شہید، نمازِ جنازہ میں ڈی آئی جی ناصر آفتاب اور دیگر کی شرکت

پوليس کارروائی کے دوران جتوئی اور جونيجا برادری سے تعلق رکھنے والی دو بچیوں سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے۔

شکارپور کے قریب جرائم پیشہ افراد سے مقابلے کے دوران ایس ایچ او لکھي غلام شاہ خمیسو خان بروہی شہید، نمازِ جنازہ میں ڈی آئی جی ناصر آفتاب اور دیگر کی شرکت

شکارپور (احسان ابڑو) شکارپور کے قریب سکھر۔شکارپور انڈس ہائی وے پر رینجرز چیک پوسٹ کے قریب جرائم پیشہ افراد نے سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ناکہ لگا رکھا تھا اور آنے جانے والے مسافروں سے لوٹ مار کر رہے تھے۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی تو ملزمان کے ساتھ مقابلہ شروع ہو گیا۔ فائرنگ کے دوران تھانہ لکھي کے ایس ایچ او غلام شاہ خمیسو خان بروہی گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر سکھر منتقل کیا گیا، جہاں وہ ضیاءالدین اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تقریباً 12 بجے، سات مسلح افراد نے تھانہ لکھي کی حدود میں سکھر۔شکارپور انڈس ہائی وے پر رینجرز چیک پوسٹ کے قریب رکاوٹیں کھڑی کرکے نوابشاہ سے کوئٹہ جانے والی مسافر کوچ کے مسافروں کو یرغمال بنا کر لوٹ مار کی۔ سڑک بند ہونے کی اطلاع پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او خمیسو بروہی نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو ملزمان نے ان پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایس ایچ او شدید زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ زخمی ایس ایچ او کو نازک حالت میں ضیاءالدین اسپتال سکھر منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس کی مزید نفری طلب کی گئی، جس نے جائے واردات پر پہنچ کر ملزمان کے پیچھے تعاقب کیا اور 20 میل تھانے کی حدود میں کارروائی کرتے ہوئے مبینہ ملزمان کے گھروں کو نذرِ آتش کر دیا۔ ڈرون فائرنگ کے دوران جتوئی اور جونيجا برادری سے تعلق رکھنے والی دو بچیوں سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب شہید ایس ایچ او کی میت ضروری قانونی کارروائی کے بعد لکھي اسپتال سے پولیس ہیڈ کوارٹر شکارپور لائی گئی، جہاں سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ نمازِ جنازہ میں شہید کے ورثاء، شہریوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں کے علاوہ ڈی آئی جی ناصر آفتاب پٹھان، رینجرز کے ڈی ایس آر محمود احمد، ایس ایس پی شاہزیب چاچڑ، ڈی سی شکیل ابڑو اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ تاہم جنازے میں کوئی منتخب نمائندہ یا اپوزیشن کا سرکردہ رہنما شریک نہیں ہوا۔ بعد ازاں شہید کی میت کو آبائی قبرستان سلطان کوٹ میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ آخری اطلاعات تک واقعے کا مقدمہ درج نہیں ہو سکا تھا، جبکہ قاتلوں کی گرفتاری کے لیے پولیس اور رینجرز کی جانب سے مختلف مقامات پر آپریشن جاری تھا۔