کوئٹہ میں سردی کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

کوئٹہ میں سردی کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

کوہٹہ: کوئٹہ اور بلوچستان کے بیشتر علاقے اس وقت شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے جا پہنچا ہے۔ گزشتہ روز بارش اور برفباری کے بعد شام سے یخ بستہ سائبیرین ہواؤں کا سلسلہ شروع ہوا جو تاحال جاری ہے شدید سردی کے باعث نہ صرف سڑکوں اور کھلے مقامات پر پانی جم گیا ہے بلکہ گھروں کی ٹینکیوں اور نلوں میں بھی پانی منجمد ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے شہری پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ماہرین کے مطابق موجودہ سردی نے گزشتہ 30 سال کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ گزشتہ رات درجہ حرارت منفی 13 تک پہنچا جبکہ دن میں منفی 9 اور سردی منفی 12 محسوس کی گئی کوئٹہ، قلات، مستونگ، سوراب، زیارت، کان مہترزئی، توبہ کاکڑی اور توبہ اچکزئی سمیت کئی وسطی اور شمالی علاقوں کو بلوچستان کے انتہائی سرد علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے تیز اور سائبیرین ہواؤں کے باعث ان علاقوں میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ ایندھن کے متبادل اور سستے ذرائع کی کمی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے دوسری جانب، گزشتہ شب برفباری کے دوران زیارت جانے والے متعدد خاندان راستے میں پھنس گئے تھے، تاہم پی ڈی ایم اے حکام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔