قدرتی آبی گزرگاہیں شدید متاثر، ماحولیات اور زراعت کو ناقابلِ تلافی نقصان
ملیر (رپورٹ: عبدالرشید مورجھریو)
ملیر کے علاقے میں ریت چور مافیا کی جانب سے ندیوں کے اندر ریت اور بجری سے بلاکس بنانے کا غیر قانونی کاروبار کھلے عام جاری ہے، جس کے باعث صدیوں سے قائم قدرتی آبی گزرگاہیں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ مقامی آبادگاروں کا کہنا ہے کہ اس غیر قانونی سرگرمی نے نہ صرف ندیوں کی قدرتی ساخت کو تباہ کر دیا ہے بلکہ ماحولیات، زراعت، چرند پرند، پرندوں کی افزائش اور فطرت کے حسن کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق ندیوں کے اندر بھاری مشینری کے ذریعے ریت اور بجری نکال کر بلاکس تیار کیے جا رہے ہیں، جس سے پانی کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے اور مستقبل میں شدید ماحولیاتی اور زرعی بحران جنم لے سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس غیر قانونی کاروبار کو ہر صورت میں فوری طور پر بند کیا جائے۔
اس سلسلے میں ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ کی جانب سے ندیوں کی تباہی کا نوٹس لینا ایک قابلِ تحسین اقدام قرار دیا جا رہا ہے، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کارروائی کے صرف تین دن بعد ہی دوبارہ وہی غیر قانونی سرگرمیاں شروع ہو گئیں، جس سے کارروائی کی مؤثریت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سماجی اور ماحولیاتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں ایس ایس پی ملیر کو دوبارہ سخت نوٹس لیتے ہوئے ریت چور مافیا کے خلاف مستقل اور مؤثر کارروائی کرنا ہوگی تاکہ ندیوں کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔
دوسری جانب محکمہ معدنیات (منرل اینڈ مائنز ڈیپارٹمنٹ) کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سماجی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر ملیر سمیع اللہ شیخ کو بھی فوری طور پر نوٹس لینا چاہیے، کیونکہ ندیوں کے اندر غیر قانونی قبضوں کے ذریعے قدرتی آبی گزرگاہوں کو بگاڑا جا رہا ہے۔
مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر ملیر اپنے اسسٹنٹ کمشنرز سے تفصیلی رپورٹس طلب کریں کہ کن ندیوں کے اندر اور کن مقامات پر غیر قانونی قبضے قائم ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کچے کے ڈاکوؤں اور ندیوں کے ڈاکوؤں میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق صدیوں پرانے قدرتی پانی کے بہاؤ کی تباہی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی بربادی میں بھی تیزی آ رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر زراعت، حیاتیاتی نظام اور فطری حسن پر پڑ رہا ہے۔ اس لیے تمام متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ فوری، سخت اور مشترکہ اقدامات کرتے ہوئے اس غیر قانونی کاروبار کا مستقل خاتمہ کریں۔
0 تبصرے