ٹھٹھہ کے وکیل کی جانب سے ایس ایچ او دھابیجی پر تشدد اور لاک اپ کرنے کا الزام

ایس ایچ او کے خلاف سیکشن 22-A کے تحت درخواست دائر، جلد ایف آئی آر درج کرائی جائے گی

ٹھٹھہ کے وکیل کی جانب سے ایس ایچ او دھابیجی پر تشدد اور لاک اپ کرنے کا الزام

ٹھٹھہ (شفیق بھٹی): ٹھٹھہ ضلع کے دھابیجی تھانے کے ایس ایچ او مبینہ پرھیاڑ کی جانب سے سینئر وکیل اور سماجی کارکن کامریڈ گل محمد خشک کو مبینہ طور پر یرغمال بنا کر تشدد کرنے اور لاک اپ کرنے کا واقعہ ضلع میں شدید کشیدگی کا باعث بن گیا ہے۔ اس واقعے کے خلاف ضلع کے صحافیوں، وکلاء، سیاسی اور سماجی حلقوں نے سخت مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سینئر وکیل کامریڈ گل محمد خشک نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اپنے مؤکل کے قانونی کام کے سلسلے میں دھابیجی تھانے گئے تھے، جہاں ایس ایچ او مبینہ طور پر نشے کی حالت میں تھا، کپکپا رہا تھا اور بات چیت کے دوران گالی گلوچ کرتے ہوئے انہیں تھپڑ مارا، شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں لاک اپ کر دیا۔ کامریڈ گل محمد خشک نے الزام عائد کیا کہ ایس ایچ او نے خود کو “ٹھٹھہ ضلع کا بادشاہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سڑک کے ذریعے ہونے والی ہر قسم کی تجارت اور ٹریفک سے اسے ٹیکس دینا ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ ایک کمپنی کے لیگل ایڈوائزر ہیں، جس کی پتّی سے بھری گاڑی جو قانونی تھی، چند روز قبل پولیس نے پکڑ کر تھانے میں کھڑی کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ ایس ایچ او سے ملاقات کے لیے گئے تو انہیں گٹکے کے مقدمے میں ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکی دی گئی۔ اس پر انہوں نے قانون کے مطابق پتّی کی ایف آئی آر درج کرنے کی بات کی، جس کے بعد ایس ایچ او طیش میں آ گیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ سینئر وکیل کے مطابق اس واقعے کے خلاف انہوں نے سیکشن 22-A کے تحت درخواست دائر کر دی ہے اور جلد ہی ایس ایچ او مبینہ پرھیاڑ کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ٹھٹھہ کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹھٹھہ بار کے سابق صدر اور سینئر وکیل ایڈووکیٹ پنھوں عقیلی نے کہا کہ ٹھٹھہ میں اس وقت پولیس گردی کا راج ہے۔ بار کونسلیں قانون کی محافظ ہیں اور اگر کوئی بھی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ہم اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع میں چوریاں اور ڈکیتیاں عام ہو چکی ہیں، جبکہ ضلع منشیات کی لپیٹ میں ہے۔ چرس، افیون، ٹھرو اور آئس کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، مگر ٹک ٹاک کے شوقین ایس ایچ او کو صرف فحاشی کے اڈے ہی نظر آتے ہیں۔ بار رہنماؤں نے کہا کہ جیلیں اصلاحی ادارے ہوتی ہیں جہاں مجرموں کی اصلاح کی جاتی ہے، مگر ٹھٹھہ کی نئی جیل عذاب گاہ بن چکی ہے، جہاں قیدیوں پر انسانیت سوز تشدد کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک قیدی جاں بحق ہو چکا ہے، جبکہ اس کے ورثاء کے احتجاج پر انہیں بھی شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ٹھٹھہ کے نائب صدر وقاص شاہ، غلام سرور پلیجو، عبدالمجید سموں سمیت بڑی تعداد میں وکلاء موجود تھے، جنہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس ایچ او مبینہ پرھیاڑ کو فوری طور پر معطل کر کے اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔