عمرکوٹ میں آل سندھ فوتی کوٹہ ایکشن کمیٹی کا مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج

سندھ حکومت صرف عدالت کے ذریعے کیس جیتنے والے پٹیشنرز کو نوکریاں دے رہی ہے: رہنما

عمرکوٹ میں آل سندھ فوتی کوٹہ ایکشن کمیٹی کا مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج

عمرکوٹ (رپورٹ: کانجی مل رکھیسر): آل سندھ فوتی کوٹہ ایکشن کمیٹی عمرکوٹ کی جانب سے شفیق الرحمٰن سموں، راشد لطیف آغا، کپری علی نواز راجڑ اور دیگر کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس دوران شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔ احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے شفیق الرحمٰن سموں نے کہا کہ آج آئینی عدالت اسلام آباد نے ایک فوتی ملازم کے بیٹے، جس نے سپریم کورٹ کی جانب سے فوتی کوٹہ پر پابندی لگنے سے پہلے درخواست دی تھی، کو فوتی کوٹہ کے تحت ملازمت دینے کا حکم جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل سپریم کورٹ کراچی رجسٹری اور سندھ کی تمام ہائی کورٹس بھی پرانے درخواست گزاروں کے حق میں فیصلے دے چکی ہیں، اس کے باوجود سندھ حکومت صرف عدالت کے ذریعے کیس جیتنے والے پٹیشنرز کو ہی فوتی کوٹہ کے تحت نوکریاں دے رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ رول 11-A میں ترمیم کر کے چیف سیکریٹری سندھ نے یتیموں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور پرانے درخواست گزاروں کے حقوق پر سراسر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے فوتی کوٹہ کو قانونی شکل دیتے ہوئے 28 مارچ 1974 کو سندھ اسمبلی سے قانون منظور کروایا تھا، جسے سندھ سول سرونٹس ایکٹ 1973 کا حصہ بھی بنایا گیا تھا۔ اس قانون میں کہیں یہ درج نہیں کہ فوتی کوٹہ صرف عدالت کے ذریعے ہی ملے گا۔ مقررین نے کہا کہ اس وقت دو قانون رائج نظر آ رہے ہیں، ایک وہ جنہیں عدالت کے ذریعے فوتی کوٹہ دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسرا وہ غریب اور مستحق طبقہ ہے جو وکلا کی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور اسے فوتی کوٹہ سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون اور معزز عدالتوں کے مختلف تشریحی فیصلوں کے مطابق بعد میں آنے والا کوئی بھی فیصلہ یا نوٹیفکیشن پہلے سے دی گئی درخواستوں پر لاگو نہیں ہو سکتا، اس کے باوجود والدین کے بنیادی اور جائز حق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جو نہ صرف شہید بھٹو کے دیے گئے فوتی کوٹہ قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی حقوق کی بھی پامالی ہے۔ آخر میں مظاہرین نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ فوتی کوٹہ کے تحت دی گئی پرانی درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو نوکریاں فراہم کی جائیں تاکہ وہ باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔