پورٹ قاسم انڈسٹریل ایریا میں افسوسناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے محنت کش سجاد زہرانی کی گھگھر میں نمازِ جنازہ ادا

سجاد زہرانی کی نمازِ جنازہ گھگھر میں ادا کی گئی، محنت کشوں، مزدور رہنماؤں، مل انتظامیہ اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد میں شرکت

پورٹ قاسم انڈسٹریل ایریا میں افسوسناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے محنت کش سجاد زہرانی کی گھگھر میں نمازِ جنازہ ادا

ملیر (عبدالرشید مورجھریو): ملیر کے پورٹ قاسم انڈسٹریل ایریا میں دورانِ کام پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے محنت کش سجاد زہرانی کی نمازِ جنازہ گھگھر میں ادا کی گئی۔ نمازِ جنازہ میں محنت کشوں، مزدور رہنماؤں، مل انتظامیہ اور علاقہ مکینوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سوگوار فضا میں سجاد زہرانی کی میت کو سینکڑوں اشکبار آنکھوں کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ نوجوان محنت کش سجاد زہرانی کی بے وقت موت پر پورے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی اور ہر آنکھ نم تھی۔ مرحوم کے ورثاء اور رشتہ داروں کا غم دیدنی تھا، ان کی آہیں اور سسکیاں دل کو چھو لینے والی تھیں۔ اس موقع پر مرحوم کے ورثاء محمد جمن، حمید گل اور دیگر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے، ہمارا جوان بیٹا جس کی شادی کی تیاریاں جاری تھیں، اچانک ایک حادثے کا شکار ہو کر ہم سے جدا ہو گیا۔ یہ ایسا دکھ ہے جو کبھی فراموش نہیں ہو سکتا۔” انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ اس موقع پر پورٹ قاسم مزدور یونین کے صدر نوید سولنگی نے کہا کہ سجاد زہرانی کی موت صرف ایک خاندان کے لیے نہیں بلکہ پورے محنت کش طبقے کے لیے بڑا سانحہ ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم متاثرہ خاندان کے ساتھ ہر وقت کھڑے ہیں اور انہیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ یونین کی جانب سے کوشش کی جائے گی کہ مل انتظامیہ کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے اور متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف اور معاوضہ دلوایا جائے، بصورتِ دیگر احتجاج کرنا ہمارا قانونی حق محفوظ ہے۔”