اٹھارویں ترمیم پر عمل سے صوبے مضبوط ہوں گے، اختیارات کی منتقلی سے ڈر کیوں؟ — خواجہ آصف

جو کچھ اس ترمیم میں طے پایا تھا وہ زمین پر نافذ نہیں ہو سکا۔ اس ترمیم کا سب سے بڑا نعرہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی تھا

اٹھارویں ترمیم پر عمل سے صوبے مضبوط ہوں گے، اختیارات کی منتقلی سے ڈر کیوں؟ — خواجہ آصف

اسلام آباد؛ وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم جن سیاستدانوں نے منظور کرائی تھی، اس پر عملدرآمد کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے، مگر جو کچھ اس ترمیم میں طے پایا تھا وہ زمین پر نافذ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کا سب سے بڑا نعرہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی تھا۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ پارلیمنٹ کے اندر یا باہر کوئی یہ بتائے کہ اختیارات کی منتقلی کہاں ہوئی؟ ڈیولوشن کا مطلب یہ ہے کہ کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور میں اقتدار گراس روٹ لیول تک منتقل ہو۔ اختیارات وفاق سے صوبوں کو منتقل تو ہوئے، سو فیصد نہیں سہی مگر ہوئے، تاہم آگے یہ اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل نہیں کیے گئے، بلکہ کئی کئی برس تک لوکل گورنمنٹ کے انتخابات بھی نہیں کرائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو دیکھیں، ایران نے عراق کے ساتھ جنگ کے دوران بھی اپنے انتخابات جاری رکھے۔ احمدی نژاد اور ہاشمی رفسنجانی تہران کے میئر رہ چکے ہیں، ترکی کے موجودہ صدر طیب اردوان بھی استنبول کے میئر رہے، مگر ہمارے سیاستدانوں نے یہ دروازے بند کر دیے اور ہم بیوروکریسی کے ہاتھوں یرغمال بن گئے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ تعلیم، صحت، صفائی، ٹیکسوں کا نظام جو نچلی سطح پر منتقل ہونا چاہیے تھا، وہ تمام اختیارات آج بھی بیوروکریسی کے پاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک کا سروے کروا لیں، کیا کسی عوامی نمائندے کے پاس حقیقی اختیار ہے؟ کوئی پاور نہیں۔ یہ سب کچھ ہم نے خود کیا ہے، کسی نے زبردستی ہم سے اختیارات نہیں لیے۔ ہم اقتدار کو دارالحکومت اور صوبائی دارالحکومت تک محدود رکھنا چاہتے ہیں، سیاستدانوں نے اپنی مرضی سے یہ اختیارات اپنے پاس رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم یہ اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کریں تو سیاسی طور پر ہمیں بھی مضبوطی ملے گی، نظام اور صوبے بھی مضبوط ہوں گے۔ اٹھارویں ترمیم پر عملدرآمد سے صوبائیت کے رجحانات خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ لوگ لاڑکانہ، سیالکوٹ، گوادر اور مردان کی گلیوں میں بااختیار ہوں گے۔ لوگوں کو بااختیار بننے دیں۔ یہ اختیارات 25 کروڑ عوام کی امانت ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے ہاں بیوروکریسی بہت طاقتور ہے، اسی لیے میں نے اٹھارویں ترمیم کو ایک دکھاوا قرار دیا ہے۔ اس معاملے پر قومی اسمبلی میں بحث ہونی چاہیے کہ آخر کون سا اختیار منتقل ہوا ہے۔ ہم لوکل گورنمنٹ کے انتخابات تک نہیں کراتے۔ مجھے کسی کی ناراضی کی پرواہ نہیں، میں آئین پر عملدرآمد کی بات کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بلدیاتی انتخابات وقت پر کرائے جائیں تو نئی قیادت سامنے آئے گی، لوگوں کا اعتماد بحال ہوگا کہ انہیں نظام سے باہر نہیں کیا گیا۔ سیاستدانوں کا بیانیہ یہ ہونا چاہیے کہ بلدیاتی نمائندوں کو بااختیار بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے کو ن لیگ، پیپلز پارٹی یا کسی اور جماعت کے لیے سیاسی ایشو نہیں بنا رہے۔ ان کے مطابق اٹھارویں ترمیم کی روح پر عمل نہیں ہوا، اسی لیے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ترمیم ایک مردہ شق بن چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ایک ہی تعلیمی نصاب ہونا چاہیے، اور سوال یہ ہے کہ ہم ان باتوں سے ڈرتے کیوں ہیں؟ دوسری جانب ایک ٹوئٹ میں خواجہ آصف نے کہا کہ بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنانے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو عام آدمی کی دہلیز تک لایا جا رہا ہے۔ 25 کروڑ عوام کو کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور کی حکومتیں لوکل گورنمنٹ کے ذریعے سہولیات فراہم کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے باوجود یہ نظام فعال نہ ہو سکا، خلوص کی کمی رہی۔ انہوں نے کہا کہ عوام نوکر شاہی پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے ووٹ سے بااختیار نمائندے اور ادارے منتخب کر سکیں گے، اور اگر وہ کام نہ کریں تو عوام ان کا احتساب بھی کر سکے گی۔ پانی کی فراہمی، فائر بریگیڈ، صفائی، ابتدائی تعلیم، صحت، نکاسیٔ آب، تجاوزات، مقامی سڑکیں سب لوکل گورنمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہوں گی۔ لوکل گورنمنٹ اپنا ٹیکس نظام بھی ترتیب دے گی، اور دنیا میں بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں عدالت اور پولیس کے کچھ اختیارات بھی مقامی حکومتوں کے پاس ہوتے ہیں۔