گل پلازہ کی فارنزک تحقیقات اور تخریب کاری کے عنصر کے حوالے سے تفتیش جاری ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر
کراچی، سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ ایک افسوسناک اور دل خراش واقعہ ہے، جس پر ہر آنکھ اشکبار اور ہر پاکستانی غمزدہ ہے۔ یہ غم صرف لواحقین کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے، اور جن اذیتوں سے متاثرہ خاندان گزر رہے ہیں، اس مشکل گھڑی میں سندھ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سانحے کے پہلے دن سے سندھ حکومت ایک نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے کہ ملبے میں موجود تمام لاشوں کو نکالا جائے۔ ڈی این اے ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں، حکومت کو 86 لاپتا افراد کے بارے میں معلومات مل چکی ہیں جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہے اور انتظامیہ دن رات کام کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جاں بحق افراد کے ورثا کو فی کس ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے اور سندھ حکومت 1200 دکانداروں کے نقصانات کا ازالہ کرے گی۔ ماضی میں ٹمبر مارکیٹ میں آگ لگنے اور عاشورہ کے موقع پر بولٹن مارکیٹ جلنے کے واقعات میں بھی سندھ حکومت نے چیمبر آف کامرس کے ذریعے نقصان کا تخمینہ لگوا کر متاثرہ دکانداروں کو معاوضہ دیا تھا، اور اس بار بھی ایک منظم نظام کے تحت ایمانداری سے ازالہ کیا جائے گا۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔ حکومت چاہتی ہے کہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔ فائر فائٹنگ کے دوران ایک فائر فائٹر شہید ہوا ہے اور حکومت اس کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یکم جنوری 2024 کو آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی تھی، جس میں تمام دکانوں کو نوٹسز بھیجے گئے تھے اور اس وقت نگران وزیراعلیٰ موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس آگ کے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی کو ٹاسک دیا گیا ہے جو آگ لگنے کی وجوہات، ریسکیو میں کوتاہی اور دیگر امور کا جائزہ لے گی۔ ہم سب کمیٹی کی رپورٹ کے منتظر ہیں۔
شرجیل انعام میمن کے مطابق چیمبر آف کامرس کے وفد نے وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کی ہے اور تمام عمارتوں میں فائر سیفٹی کو یقینی بنانے کی حمایت کی ہے، جبکہ پورے پاکستان میں اندازاً 90 فیصد عمارتوں میں فائر سیفٹی کا نظام موجود نہیں اور ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے کے دوران مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک جماعت نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے؛ کیا ایسی صورت میں ایسے واقعات نہیں ہوں گے؟ یہی وہ جماعتیں ہیں جنہوں نے لوگوں کو زندہ جلایا۔ عاشورہ کے سانحے میں بولٹن مارکیٹ کو آگ آپ نے لگائی اور علاج حکومت نے کیا۔ آج بھی متاثرین لاشوں کے منتظر ہیں اور آپ سیاست کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 12 مئی کو لوگوں کو چن چن کر قتل کیا گیا، بندوقوں کا نشانہ بنایا گیا، اور آج بھی اس سانحے پر پوائنٹ اسکورنگ کی جا رہی ہے، جبکہ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔ گل پلازہ میں ہر طبقے کے لوگ خریداری کے لیے آتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مصطفیٰ کمال کی پرانی ویڈیوز بھی پیش کیں اور کہا کہ جب وہ میئر کراچی تھے تو ان کا لہجہ کچھ اور تھا۔ وہ ماضی میں اپنے قائد کے لیے لڑتے تھے اور اب اسی قائد کے خلاف باتیں کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے قائد بدلتے رہتے ہیں۔ مصطفیٰ کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب میرے پاس موجود ہے۔ وہ وفاقی وزیر صحت ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ وہ گل پلازہ کتنی بار گئے ہیں۔
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ آپ کے قائد کی ہڑتالوں کے دوران روزانہ سو افراد مارے جاتے تھے، تب ضمیر کیوں نہیں جاگا؟ انسانیت کیوں یاد نہیں آئی؟ ہماری ترجیح یہ ہے کہ پہلے لواحقین کو لاشیں دی جائیں، پھر آزادانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا تک پہنچایا جائے۔
اٹھارہویں ترمیم کے خلاف خواجہ آصف اور مصطفیٰ کمال کے بیانات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر مخالفت ہے تو اسمبلی میں جائیں، ٹی وی پر واویلا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ بڑے دل کی حامل رہی ہے، سب کو معاف کیا اور موقع دیا۔ 2008 سے 2013 تک کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا۔ ہم نے ہر دور میں جیلیں کاٹی ہیں اور صدرِ پاکستان کا نائن زیرو جانا محض انتشاری سیاست کے خاتمے کے لیے تھا۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کی فارنزک تحقیقات اور تخریب کاری کے عنصر کے حوالے سے تفتیش جاری ہے۔ رپورٹ آنے دیں، اگر اس میں میرا بھی نام آیا تو مجھے بھی معاف نہ کیا جائے۔
0 تبصرے