ملیر: بھینس کالونی میں قتل ہونے والے لطیف کلمتی کے قاتلوں کی گرفتاری نہ ہونے کے خلاف دھرنا

لطیف کلمتی کے ورثاء اور علاقہ مکینوں کی جانب سے مہرآن ہائی وے پر دھرنا، پولیس کے خلاف نعرے بازی۔

ملیر: بھینس کالونی میں قتل ہونے والے لطیف کلمتی کے قاتلوں کی گرفتاری نہ ہونے کے خلاف دھرنا

ملیر (رپورٹ: عبدالرشید مورجھریو) ملیر کے علاقے بھینس کالونی نمبر 12 میں ڈیڑھ ماہ قبل گھر کے اندر گولیاں مار کر قتل کیے گئے نوجوان لطیف کلمتی کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے کے خلاف ورثاء اور علاقہ مکینوں نے پیرانی گوٹھ سے مہرآن ہائی وے تک احتجاجی ریلی نکالی، مظاہرہ کیا اور دھرنا دے کر شدید نعرے بازی کی۔ احتجاجی مظاہرے کی قیادت مقتول کے والد پنھو کلمتی، بھائی حفیظ کلمتی، موسیٰ کلمتی، حاجی صدیق کلمتی، جمن کلمتی، فیض سندھی، حاجی علی کلمتی اور دیگر کر رہے تھے۔ اس موقع پر رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قتل کے واقعے کو ڈیڑھ ماہ گزر جانے کے باوجود پولیس نوجوان کے قتل میں مطلوب ملزمان کو گرفتار کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، حالانکہ ہم نے پولیس کو ملزمان کے نام اور تصاویر بھی فراہم کی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سکھن پولیس دانستہ طور پر کیس میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ ورثاء نے بتایا کہ ملزمان دِلدار فلپوٽو اور طارق فلپوٽو ظلم کی انتہا کرتے ہوئے گھر میں گھس آئے اور نوجوان لطیف کلمتی کو گولیاں مار کر فرار ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ایف آئی آر تدفین کے بعد ورثاء کی مرضی کے مطابق درج کی جائے گی، لیکن پولیس نے ورثاء کے پہنچنے سے پہلے ہی کمزور ایف آئی آر درج کر کے ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس نے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر ملزمان کو گرفتار نہ کیا گیا تو قومی شاہراہ پر دھرنا دے کر سخت احتجاج کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری پولیس اور انتظامیہ پر عائد ہو گی۔